سورہ Al-Qalam — آیت 44

قلم · 68:44 · 44/52

فَذَرْنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـٰذَا ٱلْحَدِيثِ ۖ سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ

Fatharnee waman yukaththibubihatha alhadeethi sanastadrijuhum min haythula yaAAlamoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

تو مجھ کو اس کلام کے جھٹلانے والوں سے سمجھ لینے دو۔ ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسے طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی

محمد جوناگڑھی

پس مجھے اور اس کلام کو جھٹلانے والے کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگا.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

پس اے نبیؐ ، تم اِس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو۔ ہم ایسے طریقہ سے اِن کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ اِن کو خبر بھی نہ ہو گی۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

تو (اے نبی ﷺ !) آپ چھوڑ دیجیے مجھے اور ان لوگوں کو جو اس کلام کی تکذیب کر رہے ہیں۔ ہم انہیں رفتہ رفتہ وہاں سے لے آئیں گے جہاں سے انہیں علم تک نہیں ہوگا۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

پس مجھے اور اس کلام کو جھٹلانے والے کو چھوڑ دے[1] ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگا.[2]

حواشی

[1] یعنی میں ہی ان سے نمٹ لوں گا تو ان کی فکر نہ کر. [2] یہ اسی استدراج (ڈھیل دینے) کا ذکر ہے۔ قرآن میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے اور حدیث میں بھی وضاحت کی گئی ہے کہ نافرمانی کے باوجود دنیاوی مال و اسباب کی فراوانی، اللہ کا فضل نہیں ہے، اللہ کے قانون پھر جب وہ گرفت کرنے پر آتا ہے تو کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔