سورہ Al-Mu'minun — آیت 64

مومنین · 23:64 · 64/118

حَتَّىٰٓ إِذَآ أَخَذْنَا مُتْرَفِيهِم بِٱلْعَذَابِ إِذَا هُمْ يَجْـَٔرُونَ

Hatta itha akhathnamutrafeehim bilAAathabi itha hum yaj-aroon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

یہاں تک کہ جب ہم نے ان میں سے آسودہ حال لوگوں کو پکڑ لیا تو وہ اس وقت چلاّئیں گے

محمد جوناگڑھی

یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے آسوده حال لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیا تو وه بلبلانے لگے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

یہاں تک کہ جب ہم اُن کے عیّاشوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو پھر وہ ڈکرانا شروع کر دیں گے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوشحال لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے تو اس وقت وہ چیخیں چلائیں گے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے آسوده حال لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیا[1] تو وه بلبلانے لگے.

حواشی

[1] مترفین سے مراد آسودہ حال (متنعمین)ہیں۔ عذاب تو آسودہ اور غیر آسودہ حال دونوں کو ہی ہوتا ہے۔ لیکن آسودہ حال لوگوں کا نام خصوصی طور پر شاید اس لئے لیا گیا کہ قوم کی قیادت بالعموم انہی کے ہاتھوں میں ہوتی ہے، وہ جس طرف چاہیں قوم کا رخ پھیر سکتے ہیں۔ اگر وہ اللہ کی نافرمانی کا راستۃ اختیار کریں اور اس پر ڈٹے رہیں تو انہی کی دیکھا دیکھی قوم بھی ٹس سے مس نہیں ہوتی۔اور توبہ و ندامت کی طرف نہیں آتی۔ یہاں مترفین سے مراد وہ کفار ہیں، جنہیں مال و دولت کی فراوانی اور اولاد و احفاد سے نواز کر مہلت دی گئی۔ جس طرح کہ چند آیات قبل ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ یا مراد چوہدری اور سردار قسم کے لوگ ہیں۔ اور عذاب سے مراد اگر دنیاوی ہے، تو جنگ بدر میں کفار مکہ مارے گئے بلکہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی بد دعا کے نتیجے میں بھوک اور قحط سالی کا عذاب مسلط ہوا، وہ مراد ہے یا پھر مراد آخرت کا عذاب ہے۔ مگر یہ سیاق سے بعید ہے۔