سورہ Al-Ma'idah — آیت 66
دسترخوان · 5:66 · 66/120
وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا۟ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِم مِّن رَّبِّهِمْ لَأَكَلُوا۟ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم ۚ مِّنْهُمْ أُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۖ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا يَعْمَلُونَ
Walaw annahum aqamoo attawratawal-injeela wama onzila ilayhim min rabbihimlaakaloo min fawqihim wamin tahti arjulihim minhum ommatunmuqtasidatun wakatheerun minhum saa mayaAAmaloon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے (تو ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ) اپنے اوپر سے پاؤں کے نیچے سے کھاتے ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں
محمد جوناگڑھی
اور اگر یہ لوگ تورات وانجیل اور ان کی جانب جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے، ان کے پورے پابند رہتے تو یہ لوگ اپنے اوپر سے اور نیچے سے روزیاں پاتے اور کھاتے، ایک جماعت تو ان میں سے درمیانہ روش کی ہے، باقی ان میں سے بہت سے لوگوں کے برے اعمال ہیں۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
کاش انہوں نے توراة اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو اِن کے رب کی طرف سے اِن کے پاس بھیجی گئی تھیں۔ ایسا کرتے تو اِن کے لیے اُوپر سے رزق برستا اور نیچے سے اُبلتا۔ اگرچہ ان میں کچھ لوگ راست رَو بھی ہیں لیکن ان کی اکثریت سخت بد عمل ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور اگر انہوں نے قائم کیا ہوتا تورات کو اور انجیل کو اور اس کو جو کچھ نازل کیا گیا تھا ان پر ان کے رب کی طرف سے تو یہ کھاتے اپنے اوپر سے بھی اور اپنے قدموں کے نیچے سے بھی ان میں کچھ لوگ ہیں جو درمیانی (یعنی سیدھی) راہ پر ہیں لیکن ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو بہت بری حرکتیں کر رہے ہیں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور اگر یہ لوگ تورات وانجیل اور ان کی جانب جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے، ان کے پورے پابند رہتے[1] تو یہ لوگ اپنے اوپر سے اور نیچے سے روزیاں پاتے اور کھاتے[2]، ایک جماعت تو ان میں سے درمیانہ روش کی ہے، باقی ان میں سے بہت سے لوگوں کے برے اعمال ہیں۔[3]
حواشی
[1] تورات اور انجیل کے پابند رہنے کا مطلب، ان کے ان احکام کی پابندی ہے جو ان میں انہیں دیئے گئے، اور انہی میں ایک حکم آخری نبی پر ایمان لانا بھی تھا۔ اور ”وَمَا أُنْزِلَ“ سے مراد تمام آسمانی کتب پر ایمان لانا ہے جن میں قرآن کریم بھی شامل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اسلام قبول کرلیتے۔ [2] اوپر نیچے کا ذکر یا تو بطور مبالغہ ہے، یعنی کثرت سے اور انواع واقسام کے رزق اللہ تعالیٰ مہیا فرماتا۔ یا اوپر سے مراد آسمان ہے یعنی حسب ضرورت خوب بارشیں برساتا اور نیچے سے مراد زمین ہے۔ یعنی زمین اس بارش کو اپنے اندر جذب کرکے خوب پیداوار دیتی۔ نتیجتاً شادابی اور خوش حالی کا دور دورہ ہو جاتا۔ جس طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا ”وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ“ (الأعراف: 96) ”اگر بستیوں والے ایمان لائے ہوتے اور انہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہوتا تو ہم ان پر آسمان وزمین کی برکات کے (دروازے) کھول دیتے“۔ [3] لیکن ان کی اکثریت نے ایمان کا یہ راستہ اختیار نہیں کیا اور وہ اپنے کفر پر مصر اور رسالت محمدی سے انکار پر اڑے ہوئے ہیں۔ اسی اصرار اور انکار کو یہاں برے اعمال سے تعبیر کیا گیا ہے۔ درمیانہ روش کی ایک جماعت سے مراد عبداللہ بن سلام (رضي الله عنه) جیسے 8 ،9 افراد ہیں جو یہود مدینہ میں سے مسلمان ہوئے۔