سورہ Al-Ma'idah — آیت 63

دسترخوان · 5:63 · 63/120

لَوْلَا يَنْهَىٰهُمُ ٱلرَّبَّـٰنِيُّونَ وَٱلْأَحْبَارُ عَن قَوْلِهِمُ ٱلْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ ٱلسُّحْتَ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا۟ يَصْنَعُونَ

Lawla yanhahumu arrabbaniyyoonawal-ahbaru AAan qawlihimu al-ithmawaaklihimu assuhta labi'sa ma kanooyasnaAAoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

بھلا ان کے مشائخ اور علماء انہیں گناہ کی باتوں اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے؟ بلاشبہ وہ بھی برا کرتے ہیں

محمد جوناگڑھی

انہیں ان کے عابد وعالم جھوٹ باتوں کے کہنے اور حرام چیزوں کے کھانے سے کیوں نہیں روکتے، بےشک برا کام ہے جو یہ کر رہے ہیں۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

کیوں اِن کے عُلما٫ اور مشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے نہیں روکتے؟ یقیناً بہت ہی برا کارنامہ زندگی ہے جو وہ تیار کر رہے ہیں

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

کیوں نہیں منع کرتے انہیں ان کے درویش (صوفی اور پیرو مرشد) اور علماء و فقہاء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام خوری سے ؟ بہت برا ہے وہ کام جو وہ کر رہے ہیں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

انہیں ان کے عابد وعالم جھوٹ باتوں کے کہنے اور حرام چیزوں کے کھانے سے کیوں نہیں روکتے، بےشک برا کام ہے جو یہ کر رہے ہیں۔[1]

حواشی

[1] یہ علماء ومشائخ دین اور عباد وزہاد پر نکیر ہے کہ عوام کی اکثریت تمہارے سامنے فسق وفجور اور حرام خوری کا ارتکاب کرتی ہے لیکن تم انہیں منع نہیں کرتے۔ ایسے حالات میں تمہاری یہ خاموشی بہت بڑا جرم ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی کتنی اہمیت اور اس کے ترک پر کتنی سخت وعید ہے۔ جیسا کہ احادیث میں بھی یہ مضمون وضاحت اور کثرت سے بیان کیا گیا ہے۔