سورہ Al-Ma'idah — آیت 24

دسترخوان · 5:24 · 24/120

قَالُوا۟ يَـٰمُوسَىٰٓ إِنَّا لَن نَّدْخُلَهَآ أَبَدًا مَّا دَامُوا۟ فِيهَا ۖ فَٱذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَـٰتِلَآ إِنَّا هَـٰهُنَا قَـٰعِدُونَ

Qaloo ya moosa innalan nadkhulaha abadan ma damoo feehafa-ithhab anta warabbuka faqatila innahahuna qaAAidoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

وہ بولے کہ موسیٰ! جب تک وہ لوگ وہاں ہیں ہم کبھی وہاں نہیں جا سکتے (اگر لڑنا ہی ضرور ہے) تو تم اور تمہارا خدا جاؤ اور لڑو ہم یہیں بیٹھے رہیں گے

محمد جوناگڑھی

قوم نے جواب دیا کہ اے موسیٰ! جب تک وه وہاں ہیں تب تک ہم ہرگز وہاں نہ جائیں گے، اس لئے تم اور تمہارا پروردگار جا کر دونوں ہی لڑ بھڑ لو، ہم یہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

لیکن اُنہوں نے پھر یہی کہا کہ "اے موسیٰؑ! ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں موجود ہیں بس تم اور تمہارا رب، دونوں جاؤ اور لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں"

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

انہوں نے کہا اے موسیٰ ہم تو ہرگز اس شہر میں داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ اس میں موجود ہیں بس تم اور تمہارا رب دونوں جاؤ اور جا کر قتال کرو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

قوم نے جواب دیا کہ اے موسیٰ! جب تک وه وہاں ہیں تب تک ہم ہرگز وہاں نہ جائیں گے، اس لئے تم اور تمہارا پروردگار جا کر دونوں ہی لڑ بھڑ لو، ہم یہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔۔[1]

حواشی

[1] لیکن اس کے باوجود بنی اسرائیل نے بد ترین بزدلی، سوء ادبی اور تمرد وسرکشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”تو اور تیرا رب جا کر لڑے“۔ اس کے برعکس جب جنگ بدر کے موقع پر رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا تو انہوں نے قلت تعداد و قلت وسائل کے باوجود جہاد میں حصہ لینے کے لئے بھرپور عزم کا اظہار کیا اور یہ بھی کہا کہ ”یا رسول اللہ! ہم آپ کو اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح قوم موسیٰ نے موسیٰ (عليه السلام) کو کہا تھا۔“ (صحيح بخاري، كتاب المغازي والتفسير)