سورہ Al-Ma'idah — آیت 21

دسترخوان · 5:21 · 21/120

يَـٰقَوْمِ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْأَرْضَ ٱلْمُقَدَّسَةَ ٱلَّتِى كَتَبَ ٱللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا۟ عَلَىٰٓ أَدْبَارِكُمْ فَتَنقَلِبُوا۟ خَـٰسِرِينَ

Ya qawmi odkhuloo al-ardaalmuqaddasata allatee kataba Allahu lakum walatartaddoo AAala adbarikum fatanqaliboo khasireen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

تو بھائیو! تم ارض مقدس (یعنی ملک شام) میں جسے خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھا ہے چل داخل ہو اور (دیکھنا مقابلے کے وقت) پیٹھ نہ پھیر دینا ورنہ نقصان میں پڑ جاؤ گے

محمد جوناگڑھی

اے میری قوم والو! اس مقدس زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نام لکھ دی ہے اور اپنی پشت کے بل روگردانی نہ کرو کہ پھر نقصان میں جا پڑو۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اے برادران قوم ! اس مقدّس سرزمین میں داخل ہوجاوٴ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے، پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام و نامراد پلٹو گے“۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

(تو) اے میری قوم کے لوگو ! اب داخل ہوجاؤ اس ارض مقدس (فلسطین) میں جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے اور اپنی پیٹھوں کے َ بل واپس نہ پھرنا (اگر ایسا کروگے) تو ناکام و نامراد پلٹو گے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اے میری قوم والو! اس مقدس زمین[1] میں داخل ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نام لکھ دی ہے[2] اور اپنی پشت کے بل روگردانی نہ کرو[3] کہ پھر نقصان میں جا پڑو۔

حواشی

[1] بنو اسرائیل کے مورث اعلیٰ حضرت یعقوب (عليه السلام) کا مسکن بیت المقدس تھا۔ لیکن حضرت یوسف (عليه السلام) کے امارت مصر کے زمانے میں یہ لوگ مصر جا کر آباد ہوگئے تھے اور پھر تب سے اس وقت تک مصر ہی میں رہے، جب تک کہ موسیٰ (عليه السلام) انہیں راتوں رات (فرعون سے چھپ کر) مصر سے نکال نہیں لے گئے۔ اس وقت بیت المقدس پر عمالقہ کی حکمرانی تھی جو ایک بہادر قوم تھی۔ جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے پھر بیت المقدس جا کر آباد ہونے کا عزم کیا تو اس کے لئے وہاں قابض عمالقہ سے جہاد ضروری تھا۔ چنانچہ حضرت موسی (عليه السلام) نے اپنی قوم کو اس ارض مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور نصرت الٰہی کی بشارت بھی سنائی۔ لیکن اس کے باوجود بنواسرائیل عمالقہ سے لڑنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ (ابن کثیر ) [2] اس سے مراد وہی فتح و نصرت ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کی صورت میں ان سے کر رکھا تھا۔ [3] یعنی جہاد سے اعراض مت کرو۔