سورہ Al-Ma'idah — آیت 114

دسترخوان · 5:114 · 114/120

قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ ٱللَّهُمَّ رَبَّنَآ أَنزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ ٱلسَّمَآءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِّأَوَّلِنَا وَءَاخِرِنَا وَءَايَةً مِّنكَ ۖ وَٱرْزُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ

Qala AAeesa ibnu maryama allahummarabbana anzil AAalayna ma-idatan mina assama-itakoonu lana AAeedan li-awwalina waakhirinawaayatan minka warzuqna waanta khayru arraziqeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

(تب) عیسیٰ بن مریم نے دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما کہ ہمارے لیے (وہ دن) عید قرار پائے یعنی ہمارے اگلوں اور پچھلوں (سب) کے لیے اور وہ تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں رزق دے تو بہتر رزق دینے والا ہے

محمد جوناگڑھی

عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی کہ اے اللہ اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے کھانا نازل فرما! کہ وه ہمارے لئے یعنی ہم میں جو اول ہیں اور جو بعد کے ہیں سب کے لئے ایک خوشی کی بات ہوجائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہوجائے اور تو ہم کو رزق عطا فرمادے اور تو سب عطا کرنے والوں سے اچھا ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اس پر عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی "خدایا! ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر جو ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لیے خوشی کا موقع قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو، ہم کو رزق دے اور تو بہترین رازق ہے"

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اس پر عیسیٰ ؑ ابن مریم نے دعا کی : اے اللہ اے ہمارے رب اتاردے ہم پر ایک دسترخوان آسمان سے جو عید بن جائے ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے اور ایک نشانی ہو تیری طرف سے اور ہمیں رزق عطافرما اور یقیناً تو بہترین رزق دینے والا ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی کہ اے اللہ اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے کھانا نازل فرما! کہ وه ہمارے لئے یعنی ہم میں جو اول ہیں اور جو بعد کے ہیں سب کے لئے ایک خوشی کی بات ہوجائے[1] اور تیری طرف سے ایک نشانی ہوجائے اور تو ہم کو رزق عطا فرمادے اور تو سب عطا کرنے والوں سے اچھا ہے۔

حواشی

[1] اسلامی شریعتوں میں عید کا مطلب یہ نہیں رہا ہے کہ قومی تہوار کا ایک دن ہو جس میں تمام اخلاقی قیود اور شریعت کے ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے بےہنگم طریقے سے طرب ومسرت کا اظہار کیا جائے، چراغاں کیا جائے اور جشن منایا جائے، جیسا کہ آج کل اس کا یہی مفہوم سمجھ لیا گیا ہے اور اسی کے مطابق تہوار منائے جاتے ہیں۔ بلکہ آسمانی شریعتوں میں اس کی حیثیت ایک ملی تقریب کی ہوتی ہے، جس کا اہم مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس روز پوری ملت اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس کی تکبیر وتحمید کے زمزمے بلند کرے۔ یہاں بھی حضرت عیسیٰعلیہ السلام نے اس دن کو عید بنانے کی جس خواہش کا اظہار کیا ہے اس سے ان کا مطلب یہی ہے کہ ہم تعریف وتمجید اور تکبیر وتحمید کریں۔ بعض اہل بدعت اس عید مائدہ سے عید میلاد کا جواز ثابت کرتے ہیں۔ حالانکہ اول تو یہ ہماری شریعت سے پہلے کی شریعت کا واقعہ ہے، جسے اگر اسلام برقرار رکھنا چاہتا تو وضاحت کردی جاتی۔ دوسرے یہ پیغمبر کی زبان سے عید بنانے کی خواہش کا اظہار ہوا تھا اور پیغمبر بھی اللہ کے حکم سے شرعی احکام بیان کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔ تیسرے عید کا مفہوم ومطلب بھی وہ ہوتا ہے جو مذکورہ بالا سطروں میں بیان کیا گیا ہے۔ جب کہ عید میلاد میں ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے۔ لہذا عید میلاد کے بدعت ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ اسلام میں صرف دو ہی عیدیں ہیں جو اسلام نے مقرر کی ہیں، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ۔ ان کے علاوہ کوئی تیسری عید نہیں ہے۔