سورہ Al-Kahf — آیت 39
غار · 18:39 · 39/110
وَلَوْلَآ إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ ٱللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِٱللَّهِ ۚ إِن تَرَنِ أَنَا۠ أَقَلَّ مِنكَ مَالًا وَوَلَدًا
Walawla ith dakhalta jannatakaqulta ma shaa Allahu la quwwata illabillahi in tarani ana aqalla minka malanwawalada
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور (بھلا) جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم نے ماشاالله لاقوة الابالله کیوں نہ کہا۔ اگر تم مجھے مال واولاد میں اپنے سے کمتر دیکھتے ہو
محمد جوناگڑھی
تو نے اپنے باغ میں جاتے وقت کیوں نہ کہا کہ اللہ کا چاہا ہونے واﻻ ہے، کوئی طاقت نہیں مگر اللہ کی مدد سے، اگر تو مجھے مال واوﻻد میں اپنے سے کم دیکھ رہا ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور جب تُو اپنی جنّت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ، لاقوة اِلّا باللّٰہ؟ اگر تُو مجھے مال اور اولاد میں اپنے سے کمتر پا رہا ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے یوں کیوں نہ کہا : ماشاء اللہ ! (یعنی یہ سب اللہ کے فضل و کرم سے ہے۔) اللہ کے بدون کسی کو کوئی طاقت حاصل نہیں اگر تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں تم سے مال اور اولاد میں کم ہوں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
تو نے اپنے باغ میں جاتے وقت کیوں نہ کہا کہ اللہ کا چاہا ہونے واﻻ ہے، کوئی طاقت نہیں مگر اللہ کی مدد[1] سے، اگر تو مجھے مال واوﻻد میں اپنے سے کم دیکھ رہا ہے.
حواشی
[1] اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا طریقہ بتلاتے ہوئے کہا کہ باغ میں داخل ہوتے وقت سرکشی اور غرور کا مظاہرہ کرنے کی بجائے یہ کہا ہوتا، «مَا شَاءَ اللهُ لا قُوَّةَ إِلا بِاللهِ» یعنی جو کچھ ہوتا ہے اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے، وہ چاہے تو اسے باقی رکھے اور چاہے تو فنا کر دے۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ جس کو کسی کا مال، اولاد یا حال اچھا لگے تو اسے«مَا شَاءَ اللهُ لا قُوَّةَ إِلا بِاللهِ» پڑھنا چاہیے (تفسير ابن كثير- بحواله مسند ابو يعلى)