سورہ Al-Kahf — آیت 12

غار · 18:12 · 12/110

ثُمَّ بَعَثْنَـٰهُمْ لِنَعْلَمَ أَىُّ ٱلْحِزْبَيْنِ أَحْصَىٰ لِمَا لَبِثُوٓا۟ أَمَدًا

Thumma baAAathnahum linaAAlama ayyualhizbayni ahsa lima labithoo amada

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

پھر ان کو جگا اُٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ جتنی مدّت وہ (غار میں) رہے دونوں جماعتوں میں سے اس کی مقدار کس کو خوب یاد ہے

محمد جوناگڑھی

پھر ہم نے انہیں اٹھا کھڑا کیا کہ ہم یہ معلوم کرلیں کہ دونوں گروه میں سے اس انتہائی مدت کو جو انہوں نے گزاری کس نے زیاده یاد رکھی ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ دیکھیں اُن کے دو گروہوں میں سے کون اپنی مدت قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ ہم دیکھیں کہ دو گروہوں میں سے کس کو بہتر معلوم ہے کہ کتنا عرصہ وہ وہاں رہے تھے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

پھر ہم نے انہیں اٹھا کھڑا کیا کہ ہم یہ معلوم کرلیں کہ دونوں گروه میں سے اس انتہائی مدت کو جو انہوں نے گزاری کس نے زیاده[1] یاد رکھی ہے.

حواشی

[1] ان دو گروہوں سے مراد اختلاف کرنے والے لوگ ہیں۔ یہ یا تو اسی دور کے لوگ تھے جن کے درمیان ان کی بابت اختلاف ہوا، یا عہد رسالت کے مومن و کافر مراد ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصحاب کہف ہی ہیں ان کے دو گروہ بن گئے تھے۔ ایک کہتا تھا ہم اتنا عرصہ سوئے رہے، دوسرا، اس کی نفی کرتا اور فریق اول سے کم و بیش مدت بتلاتا۔