سورہ Al-Jinn — آیت 4
جن · 72:4 · 4/28
وَأَنَّهُۥ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى ٱللَّهِ شَطَطًا
Waannahu kana yaqoolu safeehunaAAala Allahi shatata
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور یہ کہ ہم میں سے بعض بےوقوف خدا کے بارے میں جھوٹ افتراء کرتا ہے
محمد جوناگڑھی
اور یہ کہ ہم میں سے بیوقوف [یعنی ابلیس] اللہ کے بارے میں خلاف حق باتیں کہا کرتا تھا.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور یہ کہ”ہمارےنادان لوگ اللہ کے بارے میں بہت خلافِ حق باتیں کہتے رہے ہیں۔“
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور یقینا ہمارا بیوقوف (سردار) اللہ کے بارے میں خلافِ حقیقت باتیں کہتا رہا ہے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور یہ کہ ہم میں کا بیوقوف اللہ کے بارے میں خلاف حق باتیں کہا کرتا تھا.[1]
حواشی
[1] سَفِيهُنَا (ہمارے بےوقوف) سے بعض نے شیطان مراد لیا ہے اور بعض نے ان کے ساتھی جن اور بعض نے بطور جنس؛ یعنی ہر وہ شخص جو یہ گمان باطل رکھتا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے۔ شَطَطًا کے کئ معنی کئے گئے ہیں، ظلم، جھوٹ، باطل، کفر میں مبالغہ وغیرہ۔ مقصد، راہ اعتدال سے دوری اور حد سے تجاوز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بات کہ اللہ کی اولاد ہے ان بےوقوفوں کی بات ہے جو راہ اعتدال سے دور، حد متجاوز اور کاذب و افترا پرداز ہیں۔