سورہ Al-Jinn — آیت 17
جن · 72:17 · 17/28
لِّنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَمَن يُعْرِضْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِۦ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا
Linaftinahum feehi waman yuAArid AAanthikri rabbihi yasluk-hu AAathaban saAAada
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
تاکہ اس سے ان کی آزمائش کریں۔ اور جو شخص اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے گا وہ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گا
محمد جوناگڑھی
تاکہ ہم اس میں انہیں آزمالیں، اور جو شخص اپنے پروردگار کے ذکر سے منھ پھیر لے گا تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب میں مبتلا کردے گا.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
تاکہ اس نعمت سے ان کی آزمائش کریں۔ اور جو اپنے ربّ کے ذکر سے منہ موڑے گا اس کا ربّ اسے سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
تاکہ ہم اس (فراوانی) میں ان کی آزمائش کریں۔ اور جو کوئی بھی اعراض کرے گا اپنے رب کے ذکر سے تو وہ ڈال دے گا اس کو چڑھتے عذاب میں۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
تاکہ ہم اس میں انہیں آزمالیں[1] ، اور جو شخص اپنے پروردگار کے ذکر سے منھ پھیر لے گا تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب میں مبتلا کردے گا.[2]
حواشی
[1] أَنْ لَوِ اسْتَقَامُوا، أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ پر عطف ہے یعنی یہ بات بھی میری طرف وحی کی گئی ہے کہ ۔۔الطریقہ سے مراد راہ راست یعنی اسلام ہے۔ غدق کے معنی کثیر۔ وافر پانی سے مطلب دنیوی خوش حالی ہے۔ یعنی دنیا کا مال و اسباب دے کر ہم ان کی آزمائش کرتے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا: «وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ» (الأعراف:96) یہی بات اہل کتاب کے ضمن میں بھی فرمائی گئی ہے۔ سورۂ مائدہ، 66۔ بعض کہتے ہیں کہ اس آیت کا نزول اس وقت ہوا تھا جب کفار قریش پر قحط سالی مسلط کردی گئی تھی۔ الطریقۃ کے دوسرے معنی گمراہی کے راستے کے کئے گئے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے یہ مادی خوش حالی استدراج کے طور پر ہوگی۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا: «فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ» الآية (الأنعام:44) «أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ ، نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ» (المؤمنون:55-56) [2] صَعَدًا، أَيْ: عَذَابًا شَاقًّا شَدِيدًا مُوجِعًا مُؤْلِمًا ،(ابن کثیر) نہایت سخت الم ناک عذاب۔