سورہ Al-Isra — آیت 83
رات کا صفر · 17:83 · 83/111
وَإِذَآ أَنْعَمْنَا عَلَى ٱلْإِنسَـٰنِ أَعْرَضَ وَنَـَٔا بِجَانِبِهِۦ ۖ وَإِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ كَانَ يَـُٔوسًا
Wa-itha anAAamna AAalaal-insani aAArada wanaa bijanibihiwa-itha massahu ashsharru kana yaoosa
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو ردگرداں ہوجاتا اور پہلو پھیر لیتا ہے۔ اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے
محمد جوناگڑھی
اور انسان پر جب ہم اپنا انعام کرتے ہیں تو وه منھ موڑ لیتا ہے اور کروٹ بدل لیتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وه مایوس ہوجاتا ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس کو نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ اینٹھتا اور پیٹھ موڑ لیتا ہے، اور جب ذرا مصیبت سے دو چار ہوتا ہے تو مایوس ہونے لگتا ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور جب ہم انسان کو نعمتوں سے نوازتے ہیں تو وہ اعراض کرتا ہے اور (ہم سے) کنی کترانے لگتا ہے اور جب اس پر کوئی تکلیف آپڑتی ہے تو مایوس ہو کر رہ جاتا ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور انسان پر جب ہم اپنا انعام کرتے ہیں تو وه منھ موڑ لیتا ہے اور کروٹ بدل لیتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وه مایوس ہوجاتا ہے.[1]
حواشی
[1] اس میں انسان کی حالت و کیفیت کا ذکر ہے جس میں وہ عام طور پر خوش حالی کے وقت اور تکلیف کے وقت مبتلا ہوتا ہے، خوشحالی میں وہ اللہ کو بھول جاتا ہے اور تکلیف میں مایوس ہو جاتا ہے، لیکن اہل ایمان کا معاملہ دونوں حالتوں میں اس سے مختلف ہوتا ہے۔ دیکھئے سورۂ ھود کی آیات 9-11 کے حواشی۔