سورہ Al-Isra — آیت 52
رات کا صفر · 17:52 · 52/111
يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِۦ وَتَظُنُّونَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا
Yawma yadAAookum fatastajeeboona bihamdihiwatathunnoona in labithtum illa qaleela
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی تعریف کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں) بہت کم (مدت) رہے
محمد جوناگڑھی
جس دن وه تمہیں بلائے گا تم اس کی تعریف کرتے ہوئے تعمیل ارشاد کرو گے اور گمان کرو گے کہ تمہارا رہنا بہت ہی تھوڑا ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
جس روز وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کے جواب میں نکل آوٴ گے اور تمہارا گمان اُس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیر ہی اِس حالت میں پڑے رہے ہیں۔“
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم (اس کی پکار پر) لبیک کہو گے اس کی حمد کرتے ہوئے اور تم گمان کرو گے کہ تم نہیں رہے مگر بہت تھوڑا (عرصہ)
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
جس دن وه تمہیں[1] بلائے گا تم اس کی تعریف کرتے ہوئے تعمیل ارشاد کرو گے اور گمان کرو گے کہ تمہارا رہنا بہت ہی تھوڑا ہے.[2]
حواشی
[1] ”بلائے گا“ کا مطلب ہے قبروں سے زندہ کر کے اپنی بارگاہ میں حاضر کرے گا، تم اس کی حمد کرتے ہوئے تعمیل ارشاد کرو گے یا اسے پہچانتے ہوئے اس کے پاس حاضر ہو جاؤ گے۔ [2] وہاں یہ دنیا کی زندگی بالکل تھوڑی معلوم ہوگی۔ «كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا»۔ (النازعات:46) ۔ ”جب قیامت کو دیکھ لیں گے، تو دنیا کی زندگی انہیں ایسے لگے گی گویا اس میں ایک شام یا ایک صبح رہے ہیں“، اسی مضمون کو دیگر مقامات میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ طہٰ102، 104۔ الروم 55۔ المؤمنون 112، 114۔ بعض کہتے ہیں کہ پہلا نفخہ ہوگا تو سب مردے قبروں میں زندہ ہو جائیں گے۔ پھر دوسرے نفخے پر میدان محشر میں حساب کتاب کے لئے اکٹھے ہونگے۔ دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہوگا اور اس فاصلے میں انہیں کوئی عذاب نہیں دیا جائے گا، وہ سو جائیں گے۔ دوسرے صور پر اٹھیں گے تو کہیں گے ”افسوس، ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھایاہے؟“ (سورۂ یس:52) (فتح القدیر) پہلی بات زیادہ صحیح ہے۔