سورہ Al-Isra — آیت 41
رات کا صفر · 17:41 · 41/111
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِى هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ لِيَذَّكَّرُوا۟ وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُورًا
Walaqad sarrafna fee hathaalqur-ani liyaththakkaroo wama yazeeduhumilla nufoora
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں گے۔ مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں
محمد جوناگڑھی
ہم نے تو اس قرآن میں ہر ہر طرح بیان فرما دیا کہ لوگ سمجھ جائیں لیکن اس سے انہیں تو نفرت ہی بڑھتی ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
ہم نے اِس قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کو سمجھایا کہ ہوش میں آئیں، مگر وہ حق سے اور زیادہ دور ہی بھاگے جا رہے ہیں
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کیا ہے اس قرآن میں (اپنی آیات کو) تاکہ یہ سبق حاصل کریں مگر یہ نہیں بڑھاتا انہیں مگر نفرت ہی میں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
ہم نے تو اس قرآن میں ہر ہر طرح بیان[1] فرما دیا کہ لوگ سمجھ جائیں لیکن اس سے انہیں تو نفرت ہی بڑھتی ہے.
حواشی
[1] ہر ہر طرح کا مطلب ہے، وعظ و نصیحت، دلائل و بینات ، ترغیب و ترہیب اور امثال و واقعات، ہر طریقے سے بار بار سمجھایا گیا ہے تاکہ وہ سمجھ جائیں، لیکن وہ کفر شرک کی تاریکیوں میں اس طرح پھنسے ہوئے ہیں کہ وہ حق کے قریب ہونے کی بجائے، اور زیادہ دور ہوگئے ہیں۔ اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ قرآن جادو، کہانت اور شاعری ہے، پھر وہ اس قرآن سے کس طرح راہ یاب ہوں؟ کیونکہ قرآن کی مثال بارش کی ہے کہ اچھی زمین پر پڑے تو وہ بارش سے شاداب ہو جاتی ہے اور اگر وہ گندی ہے تو بارش سے بدبو میں اضافہ ہو جاتا ہے۔