سورہ Al-Isra — آیت 36

رات کا صفر · 17:36 · 36/111

وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ ۚ إِنَّ ٱلسَّمْعَ وَٱلْبَصَرَ وَٱلْفُؤَادَ كُلُّ أُو۟لَـٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔولًا

Wala taqfu ma laysa laka bihiAAilmun inna assamAAa walbasara walfu-adakullu ola-ika kana AAanhu mas-oola

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور (اے بندے) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب (جوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی

محمد جوناگڑھی

جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ۔ کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو، یقیناً آنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور مت پیچھے پڑو اس چیز کے جس کے بارے میں تمہیں علم نہیں یقیناً سماعت بصارت اور عقل سبھی کے بارے میں باز پرس کی جائے گی

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ[1] ۔ کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے.[2]

حواشی

[1] قَفَا يَقْفُوکے معنی ہیں پیچھے لگنا، یعنی جس چیز کا علم نہیں، اس کے پیچھے مت لگو، یعنی بدگمانی مت کرو، کسی کی ٹوہ میں مت رہو، اسی طرح جس چیز کا علم نہیں، اس پر عمل مت کرو۔ [2] یعنی جس چیز کے پیچھے تم پڑو گے اس کے متعلق کان سے سوال ہوگا کہ کیا اس نے سنا تھا، آنکھ سے سوال ہوگا کیا اس نے دیکھا تھا اور دل سے سوال ہوگا کیا اس نے جانا تھا؟ کیونکہ یہی تینوں علم کا ذریعہ ہیں۔ یعنی ان اعضا کو اللہ تعالٰی قیامت والے دن قوت گویائی عطا فرمائے گا اور ان سے پوچھا جائیگا۔