سورہ Al-Isra — آیت 28
رات کا صفر · 17:28 · 28/111
وَإِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ٱبْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّن رَّبِّكَ تَرْجُوهَا فَقُل لَّهُمْ قَوْلًا مَّيْسُورًا
Wa-imma tuAAridanna AAanhumuibtighaa rahmatin min rabbika tarjooha faqullahum qawlan maysoora
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور اگر تم نے اپنے پروردگار کی رحمت (یعنی فراخ دستی) کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہو ان (مستحقین) کی طرف توجہ نہ کرسکو اُن سے نرمی سے بات کہہ دیا کرو
محمد جوناگڑھی
اور اگر تجھے ان سے منھ پھیر لینا پڑے اپنے رب کی اس رحمت کی جستجو میں، جس کی تو امید رکھتا ہے تو بھی تجھے چاہیئے کہ عمدگی اور نرمی سے انہیں سمجھا دے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اگر اُن سے (یعنی حاجت مند رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافروں سے)تمہیں کترانا ہو، اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اُس رحمت کو جس کے تم اُمیدوار ہو تلاش کر رہے ہو، تو انہیں نرم جواب دے دو۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور اگر تمہیں اعراض کرنا ہی پڑجائے ان سے اپنے رب کی رحمت کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہے تو ان سے کہو نرم بات
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور اگر تجھے ان سے منھ پھیر لینا پڑے اپنے رب کی اس رحمت کی جستجو میں، جس کی تو امید رکھتا ہے تو بھی تجھے چاہیئے کہ عمدگی اور نرمی سے انہیں سمجھا دے.[1]
حواشی
[1] یعنی مالی استطاعت کے فقدان کی وجہ سے، جس کے دور ہونے کی اور کشائش رزق کی تو اپنے رب سے امید رکھتا ہے۔ اگر تجھے غریب رشتے داروں، مسکینوں اور ضرورت مندوں سے اعراض کرنا یعنی اظہار معذرت کرنا پڑے تو نرمی اور عمدگی کے ساتھ معذرت کر، یعنی جواب بھی دیا جائے تو نرمی اور پیار و محبت کے لہجے میں نہ کہ ترشی اور بد اخلاقی کے ساتھ، جیسا کہ عام طور پر لوگ ضرورت مندوں اور غریبوں کے ساتھ کرتے ہیں۔