سورہ Al-Hujurat — آیت 10
حجرے · 49:10 · 10/18
إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا۟ بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
Innama almu'minoona ikhwatun faaslihoobayna akhawaykum wattaqoo Allaha laAAallakum turhamoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادیا کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے
محمد جوناگڑھی
(یاد رکھو) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
یقینا تمام اہل ِایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کر ادیا کرو } اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
(یاد رکھو) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو[1] ، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے.[2]
حواشی
[1] یہ پچھلے حکم کی ہی تاکید ہے۔ یعنی جب مومن سب آپس میں بھائی بھائی ہیں، تو ان سب کی اصل ایمان ہوئی۔ اس لئے اس اصل کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ ایک ہی دین پر ایمان رکھنے والے آپس میں نہ لڑیں بلکہ ایک دوسرےکے دست وبازو، ہمدرد وغم گسار اور مونس وخیر خواہ بن کر رہیں۔ اور کبھی غلط فہمی سے ان کے درمیان بعد اور نفرت پیدا ہو جائے تو اسے دور کرکے انہیں آپس میں دوبارہ جوڑ دیا جائے۔ (مزید دیکھئے سورۂ توبہ، آیت 71 کا حاشیہ)۔ [2] اور ہر معاملے میں اللہ سے ڈرو، شاید اس کی وجہ سے تم اللہ کی رحمت کے مستحق قرار پا جاؤ۔ ترجی (امید والی بات) مخاطب کے اعتبار سے ہے۔ ورنہ اللہ کی رحمت تو اہل ایمان وتقوی کے لئےیقینی ہے۔ اس آیت میں باغی گروہ سے قتال کا حکم ہے دراں حالیکہ حدیث میں مسلمان سے قتال کو کفر کہا گیا ہے۔ تو یہ کفر اس وقت ہوگا جب بلا وجہ مسلمان سے قتال کیا جائے۔ لیکن اس قتال کی بنیاد اگر بغاوت ہے تو یہ قتال نہ صرف جائز ہے بلکہ اس کا حکم دیا گیا ہے جو تاکید واستحباب پر ڈال ہے۔ اسی طرح باغی گروہ کو قرآن نے مومن ہی قرار دیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ صرف بغاوت سے، جو کبیرہ گناہ ہے، وہ گروہ ایمان سے خارج نہیں ہوگا۔ جیسا کہ خوارج اوربعض معتزلہ کا عقیدہ ہے کہ مرتکب کبائر ایمان سے خارج ہو جاتا ہے۔ اب بعض نہایت اہم اخلاقی ہدایت مسلمانوں کو دی جارہی ہیں۔