سورہ Al-Hajj — آیت 29
حج · 22:29 · 29/78
ثُمَّ لْيَقْضُوا۟ تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا۟ نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا۟ بِٱلْبَيْتِ ٱلْعَتِيقِ
Thumma lyaqdoo tafathahum walyoofoonuthoorahum walyattawwafoo bilbaytialAAateeq
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
پھر چاہیئے کہ لوگ اپنا میل کچیل دور کریں اور نذریں پوری کریں اور خانہٴ قدیم (یعنی بیت الله) کا طواف کریں
محمد جوناگڑھی
پھر وه اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اللہ کے قدیم گھر کا طواف کریں.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
پھر اپنا مَیل کچَیل دُور کریں اور اپنی نذریں پُوری کریں، اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
پھر چاہیے کہ وہ دور کریں اپنے میل کچیل اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
پھر وه اپنا میل کچیل دور کریں[1] اور اپنی نذریں پوری کریں[2] اور اللہ کے قدیم گھر کا طواف کریں.[3]
حواشی
[1] یعنی10 ذوالحجہ کو جمرہ کبریٰ (یا جمرہ عقبہ) کو کنکریاں مارنے کے بعد حاجی تحلل اول (یا تحلّل اصغر) حاصل ہو جاتا ہے، جس کے بعد وہ احرام کھول دیتا ہے اور بیوی سے مباشرت کے سوا، دیگر وہ تمام کام اس کے لئے جائز ہو جاتے ہیں، جو حالت احرام میں ممنوع ہوتے ہیں۔ میل کچیل دور کرنے کا مطلب یہی ہے کہ پھر وہ بالو، ناخنوں وغیرہ کو صاف کرلے، تیل خوشبو استعمال کرے اور سلے ہوئے کپڑے پہن لے وغیرہ۔ [2] اگر کوئی مانی ہوئی ہو، جیسے لوگ مان لیتے ہیں کہ اگر اللہ نے ہمیں اپنے مقدس گھر کی زیارت نصیب فرمائی، تو ہم فلاں نیکی کا کام کریں گے۔ [3] عتیق کے معنی قدیم کے ہیں مراد خانہ کعبہ ہے کہ حلق یا تقصیر کے بعد افاضہ کرلے، جسے طواف زیارت بھی کہتے ہیں، اور یہ حج کا رکن ہے جو وقوف عرفہ اور جمرہ عقبہ (یا جمرہ کبرٰی) کو کنکریاں مارنے کے بعد کیا جاتا ہے۔ جب کہ طواف قدوم بعض کے نزدیک واجب اور بعض کے نزدیک سنت ہے اور طواف وداع سنت مؤکدہ (یا واجب) ہے۔ جو اکثر اہل علم کے نزدیک عذر سے ساقط ہو جاتا ہے، جیسے حائضہ عورت سے بالاتفاق ساقط ہو جاتا ہے (ایسر التفاسیر)