سورہ Al-Hajj — آیت 26

حج · 22:26 · 26/78

وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَٰهِيمَ مَكَانَ ٱلْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِى شَيْـًٔا وَطَهِّرْ بَيْتِىَ لِلطَّآئِفِينَ وَٱلْقَآئِمِينَ وَٱلرُّكَّعِ ٱلسُّجُودِ

Wa-ith bawwa'na li-ibraheemamakana albayti an la tushrik bee shay-an watahhirbaytiya litta-ifeena walqa-imeenawarrukkaAAi assujood

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

(اور ایک وقت تھا) جب ہم نے ابراہیم کے لئے خانہ کعبہ کو مقرر کیا (اور ارشاد فرمایا) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیجیو اور طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں (اور) سجدہ کرنے والوں کے لئے میرے گھر کو صاف رکھا کرو

محمد جوناگڑھی

اور جبکہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو کعبہ کے مکان کی جگہ مقرر کر دی اس شرط پر کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو طواف قیام رکوع سجده کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھنا.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے ابراہیمؑ کے لیے اِس گھر (خانہ کعبہ)کی جگہ تجویز کی تھی اِس  ہدایت کے ساتھ)کہ ”میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو،

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور جب ہم نے ّ معین کردی ابراہیم ؑ کے لیے اپنے اس گھر کی جگہ (اور حکم دیا) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا اور میرے اس گھر کو پاک رکھنا طواف کرنے والوں کے لیے اور قیام رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور جبکہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو کعبہ کے مکان کی جگہ مقرر کر دی[1] اس شرط پر کہ میرے ساتھ کسی کو شریک[2] نہ کرنا اور میرے گھر کو طواف قیام رکوع سجده کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھنا.[3]

حواشی

[1] یعنی بیعت اللہ کی جگہ بتلا دی اور وہاں ہم نے ذریت ابراہیم (عليه السلام) کو ٹھہرایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طوفان نوح (عليه السلام) کی ویرانی کے بعد خانہ کعبہ کی تعمیر سب سے پہلے حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے ہاتھوں سے ہوئی ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث سے بھی ثابت ہے جس میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ' سب سے پہلی مسجد جو زمین میں بنائی گئی، مسجد حرام ہے، اور اس کے چالیس سال بعد مسجد اقصٰی تعمیر ہوئی ' (مسند احمد 5۔150، 166- 167 و مسلم کتاب المساجد) [2] یہ خانہ کعبہ کی تعمیر کی غرض بیان کی کہ اس میں صرف میری عبادت کی جائے اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ مشرکین نے اس میں جو بت سجا رکھے ہیں جن کی وہ یہاں آکر عبادت کرتے ہیں یہ ظلم صریح ہے کہ جہاں صرف اللہ کی عبادت کرنی چاہیے تھی وہاں بتوں کی عبادت کی جاتی ہے۔ [3] کفر بت پرستی اور دیگر گندگیوں اور نجاستوں سے۔ یہاں ذکر صرف نماز پڑھنے والوں کا کیا ہے، کیونکہ یہ دونوں عبادت خانہ کعبہ کے ساتھ خاص ہیں، نماز میں رخ اس کی طرف ہوتا ہے اور طواف صرف اسی کے گرد کیا جاتا ہے۔ لیکن اہل بدعت نے اب بہت سی قبروں کا طواف بھی ایجاد کر لیا ہے اور بعض نمازوں کے لیے قبلہ بھی کوئی اور۔ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهَا