سورہ Al-Hajj — آیت 17
حج · 22:17 · 17/78
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلصَّـٰبِـِٔينَ وَٱلنَّصَـٰرَىٰ وَٱلْمَجُوسَ وَٱلَّذِينَ أَشْرَكُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ شَهِيدٌ
Inna allatheena amanoo wallatheenahadoo wassabi-eena wannasarawalmajoosa wallatheena ashrakoo inna Allahayafsilu baynahum yawma alqiyamati inna AllahaAAala kulli shay-in shaheed
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
جو لوگ مومن (یعنی مسلمان) ہیں اور جو یہودی ہیں اور ستارہ پرست اور عیسائی اور مجوسی اور مشرک۔ خدا ان (سب) میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ بےشک خدا ہر چیز سے باخبر ہے
محمد جوناگڑھی
بیشک اہل ایمان اور یہودی اور صابی اور نصرانی اور مجوسی اور مشرکین ان سب کے درمیان قیامت کے دن خود اللہ تعالیٰ فیصلے کر دے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواه ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
جو لوگ ایمان لائے، اور جو یہوُدی ہوئے، اور صابئی، اور نصاریٰ، اور مجوس ، اور جن لوگوں نے شرک کیا، ان سب کے درمیان اللہ قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا، ہر چیز اللہ کی نظر میں ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
یقیناً وہ لوگ جو (محمد ﷺ پر) ایمان لائے ہیں اور جو یہودی مجوسی اور عیسائی ہیں اور جن لوگوں نے شرک کی روش اختیار کی ہے یقیناً اللہ فیصلہ کرے گا ان کے مابین قیامت کے دن۔ یقیناً اللہ ہرچیز پر گواہ ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
بیشک اہل ایمان اور یہودی اور صابی اور نصرانی اور مجوسی[1] اور مشرکین[2] ان سب کے درمیان قیامت کے دن خود اللہ تعالیٰ فیصلے کر دے گا[3]، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواه ہے.
حواشی
[1] مجوس سے مراد ایران کے آتش پرست ہیں جو دو خداؤں کے قائل ہیں، ایک ظلمت کا خالق ہے، دوسرا نور کا، جسے وہ اہرمن اور یزداں کہتے ہیں۔ [2] ان میں مذکورہ گمراہ فرقوں کے علاوہ جتنے بھی اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرنے والے ہیں، سب آگئے۔ [3] ان میں سے حق پر کون ہے، باطل پر کون، یہ تو ان دلائل سے واضح ہو جاتا ہے جو اللہ اپنے قرآن میں نازل فرماتے ہیں اور اپنے آخری پیغمبر کو بھی اسی مقصد کے لئے بھیجا تھا، «لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ» (الفتح:28) یہاں فیصلے سے مراد وہ سزا ہے جو اللہ تعالٰی باطل پرستوں کو قیامت والے دن دے گا، اس سزا سے بھی واضح ہو جائے گا کہ دنیا میں حق پر کون تھا اور باطل پر کون کون۔