سورہ Al-Hajj — آیت 11

حج · 22:11 · 11/78

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَعْبُدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ حَرْفٍ ۖ فَإِنْ أَصَابَهُۥ خَيْرٌ ٱطْمَأَنَّ بِهِۦ ۖ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ ٱنقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِۦ خَسِرَ ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةَ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْخُسْرَانُ ٱلْمُبِينُ

Wamina annasi man yaAAbuduAllaha AAala harfin fa-in asabahukhayrun itmaanna bihi wa-in asabat-hu fitnatuninqalaba AAala wajhihi khasira addunya wal-akhiratathalika huwa alkhusranu almubeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جو کنارے پر (کھڑا ہو کر) خدا کی عبادت کرتا ہے۔ اگر اس کو کوئی (دنیاوی) فائدہ پہنچے تو اس کے سبب مطمئن ہوجائے اور اگر کوئی آفت پڑے تو منہ کے بل لوٹ جائے (یعنی پھر کافر ہوجائے) اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی۔ یہی تو نقصان صریح ہے

محمد جوناگڑھی

بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ ایک کنارے پر (کھڑے) ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اگر کوئی نفع مل گیا تو دلچسپی لینے لگتے ہیں اور اگر کوئی آفت آگئی تو اسی وقت منھ پھیر لیتے ہیں، انہوں نے دونوں جہان کانقصان اٹھا لیا۔ واقعی یہ کھلا نقصان ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کنارے پر رہ کر اللہ کی بندگی کرتا ہے، اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہو گیا اور جو کوئی مصیبت آگئی تو اُلٹا پھر گیا۔ اُس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی۔ یہ ہے صریح خسارہ۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور لوگوں میں سے کوئی وہ بھی ہے جو اللہ کی عبادت کرتا ہے کنارے پر رہ کر تو اگر اسے کوئی فائدہ پہنچے تو اس پر مطمئن رہتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش آجائے تو اپنے ُ منہ کے بل الٹا پھرجاتا ہے وہ خسارے میں رہا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی یہی تو کھلا خسارہ ہے