سورہ Al-Hadid — آیت 21

فولاد · 57:21 · 21/29

سَابِقُوٓا۟ إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ ٱللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ

Sabiqoo ila maghfiratin minrabbikum wajannatin AAarduha kaAAardi assama-iwal-ardi oAAiddat lillatheena amanoobillahi warusulihi thalika fadlu Allahiyu'teehi man yashao wallahu thooalfadli alAAatheem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

(بندو) اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور جنت کی( طرف) جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے۔ اور جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو خدا پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں لپکو۔ یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

محمد جوناگڑھی

(آؤ) دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان وزمین کی وسعت کے برابر ہے یہ ان کے لیے بنائی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑے فضل واﻻ ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

دَوڑو اور ایک دُوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اُس جنّت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، جو مہیّا کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیےجو اللہ اوراُس کے رسُولوں پر ایمان لائے ہوں۔یہ اللہ کا فضل ہے، جسےچاہتا ہے عطافرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔ وہ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔ یہ اللہ کا فضل ہے جس کو بھی وہ چاہے گا دے گا۔ اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

(آؤ) دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف[1] جس کی وسعت آسمان وزمین کی وسعت کے برابر ہے[2] یہ ان کے لیے بنائی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے[3] اور اللہ بڑے فضل واﻻ ہے.[4]

حواشی

[1] یعنی اعمال صالحہ اور توبہ النصوح کی طرف کیونکہ یہی چیزیں مغفرت رب کا ذریعہ ہیں [2] اور جس کا عرض اتنا ہو، اس کا طول کتنا ہو گا؟ کیونکہ طول، عرض سے زیادہ ہی ہوتا ہے۔ [3] ظاہر ہے اس کی چاہت اسی کے لیے ہوتی ہے جو کفرومعصیت سے توبہ کرکے ایمان وعمل صالح کی زندگی اختیار کر لیتاہے، اسی لیے وہ ایسےلوگوں کو ایمان اور اعمال صالحہ کی توفیق سے بھی نواز دیتا ہے۔ [4] وہ جس پر چاہتا ہے،اپنا فضل فرماتا ہے، جس کو وہ کچھ دے، کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لے، اسے کوئی دے نہیں سکتا، تمام خیر اسی کے ہاتھ میں ہے، وہی کریم مطلق اور جواد حقیقی ہے جس کے ہاں بخل کا تصور نہیں۔