سورہ Al-Furqan — آیت 54
صحیح اور غلط میں فرق کرنے والی کتاب · 25:54 · 54/77
وَهُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ مِنَ ٱلْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُۥ نَسَبًا وَصِهْرًا ۗ وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا
Wahuwa allathee khalaqa mina alma-ibasharan fajaAAalahu nasaban wasihran wakanarabbuka qadeera
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا۔ پھر اس کو صاحب نسب اور صاحب قرابت دامادی بنایا۔ اور تمہارا پروردگار (ہر طرح کی) قدرت رکھتا ہے
محمد جوناگڑھی
وه ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اسے نسب واﻻ اور سسرالی رشتوں واﻻ کردیا۔ بلاشبہ آپ کا پروردگار (ہر چیز پر) قادر ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا، پھر اس نے نسب اور سُسرال کے دو الگ سلسلے چلائے۔ تیرا ربّ بڑا ہی قدرت والا ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور وہی ہے جس نے پانی سے پیدا کیا انسان کو تو اس نے بنایا اس کے لیے نسب اور سسرالی رشتہ۔ اور آپ کا رب سب قدرتوں کا مالک ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
وه ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اسے نسب واﻻ اور سسرالی رشتوں واﻻ کردیا[1] ۔ بلاشبہ آپ کا پروردگار (ہر چیز پر) قادر ہے.
حواشی
[1] نسب سےمراد وہ رشتے داریاں ہیں جو باپ یا ماں کی طرف سے ہوں اورصھر سے مراد وہ قرابت مندی ہے جو شادی کے بعد بیوی کی طرف سے ہو، جس کو ہماری زبان میں سسرالی رشتے کہا جاتا ہے۔ ان دونوں رشتے داریوں کی تفصیل آیت حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ (النساء۔ 23) اور«وَلا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ» (النساء ۔ 23) میں بیان کردی گئی ہے۔ اور رضاعی رشتے داریاں حدیث کی رو سے نسبی رشتوں میں شامل ہے۔ جیسا کہ فرمایا «يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاِع مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ»(البخاري ـ نمبر 2645 - ومسلم، نمبر 1070)۔