سورہ Al-Furqan — آیت 2

صحیح اور غلط میں فرق کرنے والی کتاب · 25:2 · 2/77

ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ شَرِيكٌ فِى ٱلْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُۥ تَقْدِيرًا

Allathee lahu mulku assamawatiwal-ardi walam yattakhith waladan walamyakun lahu shareekun fee almulki wakhalaqa kulla shay-infaqaddarahu taqdeera

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

وہی کہ آسمان اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور جس نے (کسی کو) بیٹا نہیں بنایا اور جس کا بادشاہی میں کوئی شریک نہیں اور جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور پھر اس کا ایک اندازہ ٹھہرایا

محمد جوناگڑھی

اسی اللہ کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی اور وه کوئی اوﻻد نہیں رکھتا، نہ اس کی سلطنت میں کوئی اس کا ساجھی ہے اور ہر چیز کو اس نے پیدا کرکے ایک مناسب اندازه ٹھہرا دیا ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

وہ جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ہے ، جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے ، جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

وہ ہستی جس کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جس نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا اور نہ ہی اس کا کوئی شریک ہے حکومت (کے اختیارات) میں اور اسی نے ہر شے کو پیدا کیا اور پھر اس کے لیے ایک اندازہ مقررہ کیا

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اسی اللہ کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی[1] اور وه کوئی اوﻻد نہیں رکھتا[2]، نہ اس کی سلطنت میں کوئی اس کا ساجھی ہے[3] اور ہر چیز کو اس نے پیدا کرکے ایک مناسب اندازه ٹھہرا دیا ہے.[4]

حواشی

[1] یہ پہلی صفت ہے یعنی کائنات میں متصرف صرف وہی ہے، کوئی اور نہیں۔ [2] اس میں نصاریٰ، یہود اور بعض ان عرب قبائل کا رد ہے جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ [3] اس میں صنم پرست مشرکین اور ثنویت (دو خداؤں شر اور خیر، ظلمت اور نور کے خالق) کے قائلین کا رد ہے۔ [4] ہر چیز کا خالق صرف وہی ہے اور اپنی حکمت ومشیت کے مطابق اس نے اپنی مخلوقات کو ہر وہ چیز بھی مہیا کی ہے جواس کے مناسب حال ہے یا ہر چیز کی موت اور روزی اس نے پہلے سے ہی مقرر کردی ہے۔