سورہ Al-Baqarah — آیت 91

گائے · 2:91 · 91/286

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ ءَامِنُوا۟ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُوا۟ نُؤْمِنُ بِمَآ أُنزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَآءَهُۥ وَهُوَ ٱلْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ ۗ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنۢبِيَآءَ ٱللَّهِ مِن قَبْلُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

Wa-itha qeela lahum aminoo bimaanzala Allahu qaloo nu'minu bima onzilaAAalayna wayakfuroona bima waraahu wahuwa alhaqqumusaddiqan lima maAAahum qul falima taqtuloonaanbiyaa Allahi min qablu in kuntum mu'mineen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے، اس کو مانو۔ تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہو چکی ہے، ہم تو اسی کو مانتے ہیں۔ (یعنی) یہ اس کے سوا کسی اور (کتاب) کو نہیں مانتے، حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے، اس کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم صاحبِ ایمان ہوتے تو الله کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے

محمد جوناگڑھی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب پر ایمان ﻻؤ تو کہہ دیتے ہیں کہ جو ہم پر اتاری گئی اس پر ہمارا ایمان ہے۔ حاﻻنکہ اس کے بعد والی کے ساتھ جو ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے، کفر کرتے ہیں، اچھا ان سے یہ تو دریافت کریں کہ اگر تمہارا ایمان پہلی کتابوں پر ہے تو پھر تم نے اگلے انبیا کو کیوں قتل کیا؟

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس پر ایمان لاؤ، تو وہ کہتے ہیں "ہم تو صرف اُس چیز پر ایمان لاتے ہیں، جو ہمارے ہاں (یعنی نسل اسرائیل) میں اتری ہے" اس دائرے کے باہر جو کچھ آیا ہے، اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں، حالانکہ وہ حق ہے اور اُس تعلیم کی تصدیق و تائید کر رہا ہے جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی اچھا، ان سے کہو: اگر تم اس تعلیم ہی پر ایمان رکھنے والے ہو جو تمہارے ہاں آئی تھی، تو اس سے پہلے اللہ کے اُن پیغمبروں کو (جو خود بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تھے) کیوں قتل کرتے رہے؟

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور جب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لاؤ اس پر جو اللہ نے نازل فرمایا ہے تو کہتے ہیں ہم ایمان رکھتے ہیں اس پر جو ہم پر نازل ہوا اور وہ کفر کر رہے ہیں اس کا جو اس کے پیچھے ہے حالانکہ وہ حق ہے تصدیق کرتے ہوئے آیا ہے اس کی جو ان کے پاس ہے) (اے نبی ﷺ ! ان سے) کہیے : تو پھر تم کیوں قتل کرتے رہے ہو اللہ کے نبیوں کو اس سے پہلے اگر تم واقعتا ایمان رکھنے والے ہو