سورہ Al-Baqarah — آیت 90

گائے · 2:90 · 90/286

بِئْسَمَا ٱشْتَرَوْا۟ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمْ أَن يَكْفُرُوا۟ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بَغْيًا أَن يُنَزِّلَ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۖ فَبَآءُو بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٍ ۚ وَلِلْكَـٰفِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينٌ

Bi'sama ishtaraw bihi anfusahum anyakfuroo bima anzala Allahu baghyan an yunazzilaAllahu min fadlihi AAala man yashaomin AAibadihi fabaoo bighadabin AAalaghadabin walilkafireena AAathabun muheen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے تئیں بیچ ڈالا، وہ بہت بری ہے، یعنی اس جلن سے کہ خدا اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے، اپنی مہربانی سے نازل فرماتا ہے۔ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب سے کفر کرنے لگے تو وہ (اس کے) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہو گئے۔ اور کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

محمد جوناگڑھی

بہت بری ہے وه چیز جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈاﻻ، وه ان کا کفر کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شده چیز کے ساتھ محض اس بات سے جل کر کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل اپنے جس بنده پر چاہا نازل فرمایا، اس کے باعث یہ لوگ غضب پر غضب کے مستحق ہوگئے اور ان کافروں کے لئے رسوا کرنے واﻻ عذاب ہے

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

کیسا بُرا ذریعہ ہے جس سے یہ اپنے نفس کی تسلی حاصل کرتے ہیں کہ جو ہدایت اللہ نے نازل کی ہے، اس کو قبول کرنے سے صرف اس ضد کی بنا پر انکار کر رہے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل ( وحی ورسالت) سے اپنے جس بندے کو خود چاہا، نواز دیا! لہٰذا اب یہ غضب با لا ئے غضب کے مستحق ہو گئے ہیں اور ایسے کافروں کیلئےسخت ذلت آمیز سزا مقرر ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

بہت بری شے ہے جس کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو فروخت کردیا کہ وہ انکار کر رہے ہیں اس ہدایت کا جو اللہ نے نازل کی ہے صرف اس ضد کی بنا پر کہ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے اپنے فضل (وحی و رسالت) میں سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے۔ تو وہ لوٹے غضب پر غضب لے کر اور ایسے کافروں کے لیے سخت ذلتّ آمیز عذاب ہے