سورہ Al-Baqarah — آیت 275
گائے · 2:275 · 275/286
ٱلَّذِينَ يَأْكُلُونَ ٱلرِّبَوٰا۟ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِى يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيْطَـٰنُ مِنَ ٱلْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْبَيْعُ مِثْلُ ٱلرِّبَوٰا۟ ۗ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلْبَيْعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰا۟ ۚ فَمَن جَآءَهُۥ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِۦ فَٱنتَهَىٰ فَلَهُۥ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ
Allatheena ya'kuloona arribala yaqoomoona illa kama yaqoomu allatheeyatakhabbatuhu ashshaytanu mina almassi thalikabi-annahum qaloo innama albayAAu mithlu arribawaahalla Allahu albayAAa waharrama arribafaman jaahu mawAAithatun min rabbihi fantahafalahu ma salafa waamruhu ila Allahi wamanAAada faola-ika as-habu annarihum feeha khalidoon
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ سودا بیچنا بھی تو (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا) حالانکہ سودے کو خدا نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ تو جس شخص کے پاس خدا کی نصیحت پہنچی اور وہ (سود لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کا۔ اور (قیامت میں) اس کا معاملہ خدا کے سپرد اور جو پھر لینے لگا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ دوزخ میں (جلتے) رہیں گے
محمد جوناگڑھی
سود خور لوگ نہ کھڑے ہوں گے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے یہ اس لئے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام، جو شخص اپنے پاس آئی ہوئی اللہ تعالیٰ کی نصیحت سن کر رک گیا اس کے لئے وہ ہے جو گزرا اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، اور جو پھر دوبارہ ﴿حرام کی طرف﴾ لوٹا، وہ جہنمی ہے، ایسے لوگ ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
مگر جو لوگ سُود کھاتے ہیں ، اُن کا حال اُس شخص کاسا ہوتا ہے، جسے شیطان نے چُھوکر باوٴلا کر دیا ہو۔ اور اس حالت میں اُن کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں:”تجارت بھی تو آخر سُود ہی جیسی ہے“، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سُود کو حرام۔ لہٰذا جس شخص کو اس کے ربّ کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سُود خوری سے باز آجائے، تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا ، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اور جو اس حکم کے بعد پھر اسی حرکت کا اعادہ کرے، وہ جہنمی ہے، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ نہیں کھڑے ہوتے مگر اس شخص کی طرح جس کو شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں بیع بھی تو سود ہی کی طرح ہے حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے اور ربا کو حرام ٹھہرایا ہے تو جس شخص کے پاس اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ باز آگیا تو جو کچھ وہ پہلے لے چکا ہے وہ اس کا ہے اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اور جس نے (اس نصیحت کے آجانے کے بعد بھی) دوبارہ یہ حرکت کی تو یہ لوگ جہنمی ہیں وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے