سورہ Al-Baqarah — آیت 272

گائے · 2:272 · 272/286

۞ لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَىٰهُمْ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ ۗ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنفُسِكُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ ٱللَّهِ ۚ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ

Laysa AAalayka hudahum walakinnaAllaha yahdee man yashao wama tunfiqoo minkhayrin fali-anfusikum wama tunfiqoona illa ibtighaawajhi Allahi wama tunfiqoo min khayrin yuwaffailaykum waantum la tuthlamoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

(اے محمدﷺ) تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔ اور (مومنو) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لئے کرو گے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا،

محمد جوناگڑھی

انہیں ہدایت پر ﻻ کھڑا کرنا تیرے ذمہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو بھلی چیز اللہ کی راه میں دو گے اس کا فائده خود پاؤ گے۔ تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب کے لئے ہی خرچ کرنا چاہئے تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا، اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

لوگوں کو ہدایت بخش دینے کی ذمّےداری تم پر نہیں ہے۔ ہدایت تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے بخشتا ہے۔ اور خیرات میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لیے بھلاہے۔ آخر تم اسی لیے تو خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔ تو جو کچھ مال تم خیرات کروگے، اس کا پُورا پُورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تمہاری حق تلفی ہرگز نہ ہوگی۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

(اے نبی ﷺ !) آپ کے ّ ذمہ نہیں ہے کہ ان کو ہدایت دے دیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور جو بھی مال تم خرچ کرو گے وہ تمہارے اپنے لیے بہتر ہے اور تم نہیں خرچ کرو گے مگر اللہ کی رضا جوئی کے لیے اور جو بھی مال تم خرچ کرو گے وہ پورا پورا تمہیں لوٹا دیا جائے گا اور تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا