سورہ Al-Baqarah — آیت 19

گائے · 2:19 · 19/286

أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فِيهِ ظُلُمَـٰتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ يَجْعَلُونَ أَصَـٰبِعَهُمْ فِىٓ ءَاذَانِهِم مِّنَ ٱلصَّوَٰعِقِ حَذَرَ ٱلْمَوْتِ ۚ وَٱللَّهُ مُحِيطٌۢ بِٱلْكَـٰفِرِينَ

Aw kasayyibin mina assama-ifeehi thulumatun waraAAdun wabarqunyajAAaloona asabiAAahum fee athanihim mina assawaAAiqihathara almawti wallahu muheetunbilkafireen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا) ہو اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور الله کافروں کو (ہر طرف سے) گھیرے ہوئے ہے

محمد جوناگڑھی

یا آسمانی برسات کی طرح جس میں اندھیریاں اور گرج اور بجلی ہو، موت سے ڈر کر کڑاکے کی وجہ سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کافروں کو گھیرنے واﻻ ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہےاور اس کے ساتھ اندھیر ی گھٹا اور کڑک اور چمک بھی ہے، یہ بجلی کے کڑاکے سُن کے اپنی جانوں کے خوف سے کانوںمیں اُنگلیاں ٹھونسے لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

یا ان کی مثال ایسی ہے جیسے بڑے زور کی بارش برس رہی ہے آسمان سے اس میں اندھیرے بھی ہیں اور گرج اور بجلی (کی چمک) بھی۔ یہ اپنی انگلیاں اپنے کانوں کے اندر ٹھونسے لیتے ہیں مارے کڑک کے موت کے ڈر سے۔ اور اللہ ایسے کافروں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔