سورہ Al-Baqarah — آیت 168
گائے · 2:168 · 168/286
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ كُلُوا۟ مِمَّا فِى ٱلْأَرْضِ حَلَـٰلًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَـٰنِ ۚ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
Ya ayyuha annasukuloo mimma fee al-ardi halalan tayyibanwala tattabiAAoo khutuwati ashshaytaniinnahu lakum AAaduwwun mubeen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
لوگو جو چیزیں زمین میں حلال طیب ہیں وہ کھاؤ۔ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
محمد جوناگڑھی
لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزه چیزیں ہیں انہیں کھاؤ پیو اور شیطانی راه پر نہ چلو، وه تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
لوگو! زمین میں جو حلال اور پاک چیزیں ہیں انھیں کھاؤ اور شیطان کے بتائے ہوئے راستوں پر نہ چلو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اے لوگو ! زمین میں جو کچھ حلال اور طیبّ ہے اسے کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزه چیزیں ہیں انہیں کھاؤ پیو اور شیطانی راه پر نہ چلو[1] ، وه تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔
حواشی
[1] یعنی شیطان کے پیچھے لگ کر اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام مت کرو۔ جس طرح مشرکین نے کیا کہ اپنے بتوں کے نام وقف کردہ جانوروں وہ حرام کرلیتے تھے، جس کی تفصیل سورۂ الانعام میں آئے گی۔ حدیث میں آتا ہے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”میں نے اپنے بندوں کو حنیف ( حق کے لیے یکسو) پیدا کیا، پس شیطانوں نے ان کو ان کے دین سے گمراہ کردیا اور جو چیزیں میں نے ان کے لئے حلال کی تھیں، وہ اس نے ان پر حرام کردیں۔“ (صحيح مسلم، كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها ، باب الصفات التي يعرف بها في الدنيا أهل الجنة وأهل النار)