سورہ Al-Baqarah — آیت 167
گائے · 2:167 · 167/286
وَقَالَ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوا۟ لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا۟ مِنَّا ۗ كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ ٱللَّهُ أَعْمَـٰلَهُمْ حَسَرَٰتٍ عَلَيْهِمْ ۖ وَمَا هُم بِخَـٰرِجِينَ مِنَ ٱلنَّارِ
Waqala allatheena ittabaAAoolaw anna lana karratan fanatabarraa minhum kamatabarraoo minna kathalika yureehimu AllahuaAAmalahum hasaratin AAalayhim wamahum bikharijeena mina annar
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
(یہ حال دیکھ کر) پیروی کرنے والے (حسرت سے) کہیں گے کہ اے کاش ہمیں پھر دنیا میں جانا نصیب ہو تاکہ جس طرح یہ ہم سے بیزار ہو رہے ہیں اسی طرح ہم بھی ان سے بیزار ہوں۔ اسی طرح خدا ان کے اعمال انہیں حسرت بنا کر دکھائے گااور وہ دوزخ سے نکل نہیں سکیں گے
محمد جوناگڑھی
اور تابعدار لوگ کہنے لگیں گے، کاش ہم دنیا کی طرف دوباره جائیں تو ہم بھی ان سے ایسے ہی بیزار ہوجائیں جیسے یہ ہم سے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال دکھائے گا ان کو حسرت دﻻنے کو، یہ ہرگز جہنم سے نہ نکلیں گے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور وہ لوگ جو دنیا میں ان کی پیروی کرتے تھے ، کہیں گے کہ کاش ہم کو پھر ایک موقع دیا جاتا تو جس طرح آج یہ ہم سے بے زاری ظاہر کر رہے ہیں ، ہم ان سے بے زار ہو کر دکھا دیتے۔ یوں اللہ ان لوگو ں کے وہ اعمال ، جو یہ دنیا میں کر رہے ہیں ،ان کے سامنے اس طرح لائے گا کہ یہ حسرتوں اور پشیمانیوں کے ساتھ ہاتھ ملتے رہیں گے مگر آگ سے نکلنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور جو ان کے پیروکار تھے وہ کہیں گے کہ اگر کہیں ہمیں دنیا میں ایک بار لوٹنا نصیب ہوجائے تو ہم بھی ان سے اسی طرح اظہار براءت کریں گے جیسے آج یہ ہم سے بیزاری ظاہرکر رہے ہیں اس طرح اللہ ان کو ان کے اعمال حسرتیں بنا کر دکھائے گا لیکن وہ اب آگ سے نکلنے والے نہیں ہوں گے۔ اب ان کو دوزخ سے نکلنا نصیب نہیں ہوگا