سورہ Al-Baqarah — آیت 134
گائے · 2:134 · 134/286
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْـَٔلُونَ عَمَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
Tilka ommatun qad khalat laha makasabat walakum ma kasabtum wala tus-aloona AAammakano yaAAmaloon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
یہ جماعت گزرچکی۔ ان کو اُن کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی
محمد جوناگڑھی
یہ جماعت تو گزر چکی، جو انہوں نے کیا وه ان کے لئے ہے اور جو تم کرو گے تمہارے لئے ہے۔ ان کے اعمال کے بارے میں تم نہیں پوچھے جاؤ گے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
وہ کچھ لوگ تھے ، جو گزر گئے۔ جو کچھ انھوں نے کمایا۔ وہ ان کے لیے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے ،وہ تمہارے لیے ہے۔ تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ان کے لیے تھا جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لیے ہوگا جو تم کماؤ گے تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
یہ جماعت تو گزر چکی، جو انہوں نے کیا وه ان کے لئے ہے اور جو تم کرو گے تمہارے لئے ہے۔ ان کے اعمال کے بارے میں تم نہیں پوچھے جاؤ گے۔[1]
حواشی
[1] یہ بھی یہود کو کہا جارہا ہے کہ تمہارے آباواجداد میں جو انبیا وصالحین ہو گزرے ہیں، ان کی طرف نسبت کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے جو کچھ کیا ہے، اس کا صلہ انہیں ہی ملے گا، تمہیں نہیں، تمہیں تو وہی کچھ ملے گا جو تم کماؤ گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلاف کی نیکیوں پر اعتماد اور سہارا غلط ہے۔ اصل چیز ایمان اور عمل صالح ہی ہے جو پچھلے صالحین کا بھی سرمایہ تھا اور قیامت تک آنے والے انسانوں کی نجات کا بھی واحد ذریعہ ہے۔