سورہ Al-Baqarah — آیت 133
گائے · 2:133 · 133/286
أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ ٱلْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنۢ بَعْدِى قَالُوا۟ نَعْبُدُ إِلَـٰهَكَ وَإِلَـٰهَ ءَابَآئِكَ إِبْرَٰهِـۧمَ وَإِسْمَـٰعِيلَ وَإِسْحَـٰقَ إِلَـٰهًا وَٰحِدًا وَنَحْنُ لَهُۥ مُسْلِمُونَ
Am kuntum shuhadaa ith hadarayaAAqooba almawtu ith qala libaneehi mataAAbudoona min baAAdee qaloo naAAbudu ilahakawa-ilaha aba-ika ibraheema wa-ismaAAeelawa-ishaqa ilahan wahidan wanahnu lahumuslimoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
بھلا جس وقت یعقوب وفات پانے لگے تو تم اس وقت موجود تھے، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے، تو انہوں نے کہا کہ آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو معبود یکتا ہے اور ہم اُسی کے حکم بردار ہیں
محمد جوناگڑھی
کیا (حضرت) یعقوب کے انتقال کے وقت تم موجود تھے؟ جب انہوں نے اپنی اوﻻد کو کہا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ تو سب نے جواب دیا کہ آپ کے معبود کی اور آپ کے آباواجداد ابرہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ اور اسحاق ﴿علیہ السلام﴾ کے معبود کی جو معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
پھر کیا تم اس وقت موجو د تھے جب یعقوب ؑ اس دنیا سے رخصت ہو رہا تھا؟ اس نے مر تے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا ”بچو!میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے ؟“ ان سب نے جواب دیا ”ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے ، جسے آپ نے اور آپ کے بزرگوں ابراھیم ؑ ، اسماعیل ؑ اور اسحاق ؑ نے خدا مانا ہےاور ہم اسی کے مسلم ہیں۔“
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
کیا تم اس وقت موجود تھے جب آدھمکی یعقوب پر موت جب کہا اپنے بیٹوں سے کہ تم کس کی عبادت کرو گے میرے بعد ؟ انہوں نے کہا ہم بندگی کریں گے آپ کے معبود کی اور آپ کے آباء ابراہیم اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی وہی ایک معبود ہے اور ہم سب اسی کے مطیع فرمان ہیں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
کیا (حضرت) یعقوب کے انتقال کے وقت تم موجود تھے؟ جب[1] انہوں نے اپنی اوﻻد کو کہا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ تو سب نے جواب دیا کہ آپ کے معبود کی اور آپ کے آباواجداد ابرہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ اور اسحاق ﴿علیہ السلام﴾ کے معبود کی جو معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے۔
حواشی
[1] یہود کو زجروتوبیخ کی جارہی ہے کہ تم جو یہ دعویٰ کرتے ہو کہ ابراہیم ویعقوب (علیھما السلام) نے اپنی اولاد کو یہودیت پر قائم رہنے کی وصیت فرمائی تھی، تو کیا تم وصیت کے وقت موجود تھے؟ اگر وہ یہ کہیں کہ موجود تھے تو یہ کذب وزور اور بہتان ہوا اور اگر یہ کہیں کہ حاضر نہیں تھے تو ان کا مذکورہ دعویٰ غلط ثابت ہوگیا، کیوں کہ انہوں نے جو وصیت کی، وہ تو اسلام کی تھی نہ کہ یہودیت، یاعیسائیت یا وثنیت کی۔ تمام انبیا کا دین اسلام ہی تھا، اگرچہ شریعت اور طریقہ کار میں کچھ اختلاف رہا ہے۔ اس کو نبی (صلى الله عليه وسلم) نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے: «الأَنْبِيَاءُ أَوْلادُ عَلاَّتٍ، أُمُّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِد» (صحيح بخاري، كتاب الأنبياء، باب واذكر في الكتاب مريم إذ انتبذت من أهلها) ”انبیا کی جماعت اولاد علات ہیں، ان کی مائیں مختلف (اور باپ ایک) ہے اور ان کا دین ایک ہی ہے۔“