سورہ Al-Baqarah — آیت 104

گائے · 2:104 · 104/286

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَقُولُوا۟ رَٰعِنَا وَقُولُوا۟ ٱنظُرْنَا وَٱسْمَعُوا۟ ۗ وَلِلْكَـٰفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ

Ya ayyuha allatheena amanoola taqooloo raAAina waqooloo onthurnawasmaAAoo walilkafireena AAathabun aleem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اے اہل ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبرِ خدا سے) راعنا نہ کہا کرو۔ انظرنا کہا کرو۔ اور خوب سن رکھو، اور کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے

محمد جوناگڑھی

اے ایمان والو! تم (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو) “راعنا” نہ کہا کرو، بلکہ “انظرنا” کہو یعنی ہماری طرف دیکھئے اور سنتے رہا کرو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ؛ رَاعِنَا نہ کہا کرو ، بلکہ اُنظُرنَا کہو اور توجّہ سے بات کو سنو، یہ کافر تو عذابِ الیم کے مستحق ہیں

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اے ایمان والو تم راعِنَا مت کہا کرو بلکہ اُنْظُرْنَا کہا کرو اور توجہّ سے بات کو سنو ! اور ان کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اے ایمان والو! تم (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو) “راعنا” نہ کہا کرو، بلکہ “انظرنا” کہو[1] یعنی ہماری طرف دیکھئے اور سنتے رہا کرو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے

حواشی

[1] رَاعِنَا کے معنی ہیں، ہمارا لحاظ اور خیال کیجیئے۔ بات سمجھ میں نہ آئے تو سامع اس لفظ کا استعمال کرکے متکلم کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا، لیکن یہودی اپنے بغض وعناد کی وجہ سے اس لفظ کو تھوڑا سا بگاڑ کر استعمال کرتے تھے جس سے اس کے معنی میں تبدیلی اور ان کے جذبہ عناد کی تسلی ہوجاتی، مثلاً وہ کہتے ”رَاعِينَا“ (ہمارے چرواہے) یا ”رَاعِنَا“ (احمق) وغیرہ، جیسے وہ ”السَّلامُ عَلَيْكُمْ“ کی بجائے”السَّامُ عَلَيْكُمْ“ (تم پر موت آئے) کہا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم ”انْظُرْنَا“ کہا کرو۔ اس سے ایک تو یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ ایسے الفاظ، جن میں تنقیص واہانت کا شائبہ ہو، ادب واحترام کے پیش نظر اور سد ذریعہ کے طور پر ان کا استعمال صحیح نہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ کفار کے ساتھ افعال واقوال میں مشابہت اختیار کرنے سے بچا جائے، تاکہ مسلمان «مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ»، (أبو داود، كتاب اللباس، باب في لبس الشهرة: وقال الألباني هذا إسناد حسن، بحواله حجاب المرأة ص104) ”جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا، وہ ان ہی میں شمار ہوگا“۔ کی وعید میں داخل نہ ہوں۔