سورہ Al-'Ankabut — آیت 8
مکڑی · 29:8 · 8/69
وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ بِوَٰلِدَيْهِ حُسْنًا ۖ وَإِن جَـٰهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَآ ۚ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
Wawassayna al-insana biwalidayhihusnan wa-in jahadaka litushrika bee malaysa laka bihi AAilmun fala tutiAAhumailayya marjiAAukum faonabbi-okum bima kuntum taAAmaloon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ ( اے مخاطب) اگر تیرے ماں باپ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جس کی حقیقت کی تجھے واقفیت نہیں۔ تو ان کا کہنا نہ مانیو۔ تم( سب) کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ پھر جو کچھ تم کرتے تھے میں تم کو جتا دوں گا
محمد جوناگڑھی
ہم نے ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے ہاں اگر وه یہ کوشش کریں کہ آپ میرے ساتھ اسے شریک کرلیں جس کا آپ کو علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مانیئے، تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے پھر میں ہر اس چیز سے جو تم کرتے تھے تمہیں خبر دوں گا.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تُو میرے ساتھ کسی ایسے (معبُود)کو شریک ٹھہرا ئے جسے تُو (میرے شریک کی حیثیت سے)نہیں جانتا تو ان کی اطاعت نہ کر۔ میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کر آنا ہے، پھر میں تم کو بتا دوں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور ہم نے ہدایت کی ہے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی اور اگر وہ تم پر دباؤ ڈالیں کہ تم میرے ساتھ شریک ٹھہراؤ ایسی چیزوں کو جن کے بارے میں تمہیں کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا مت مانو میری ہی طرف تمہیں لوٹ کر آنا ہے پھر میں تمہیں بتادوں گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
ہم نے ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے[1] ہاں اگر وه یہ کوشش کریں کہ آپ میرے ساتھ اسے شریک کرلیں جس کا آپ کو علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مانیئے[2]، تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے پھر میں ہر اس چیز سے جو تم کرتے تھے تمہیں خبر دوں گا.
حواشی
[1] قرآن کریم کے متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید وعبادت کا حکم دینے کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی ہے جس سے اس امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ ربوبیت (الہٰ واحد) کے تقاضوں کو صحیح طریقے سے وہی سمجھ سکتا اور انہیں ادا کرسکتا ہے جو والدین کی اطاعت وخدمت کے تقاضوں کو سمجھتا اور ادا کرتا ہے۔ جو شخص یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ دنیا میں اس کا وجود والدین کی باہمی قربت کا نتیجہ اور اس کی تربیت وپرداخت، ان کی غایت مہربانی اور شفقت کا ثمرہ ہے۔ اس لیے مجھے ان کی خدمت میں کوئی کوتاہی اور ان کی اطاعت سے سرتابی نہیں کرنی چاہیے۔ وہ یقیناً خالق کائنات کو سمجھنے اور اس کی توحید وعبادت کے تقاضوں کی ادائیگی سے بھی قاصر رہے گا۔ اسی لیے احادیث میں بھی والدین کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید آئی ہے۔ ایک حدیث میں والدین کی رضامندی کو اللہ کی رضا اور ان کی ناراضی کو رب کی ناراضی کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ [2] یعنی والدین اگر شرک کا حکم دیں (اور اسی میں دیگر معاصی کا حکم بھی شامل ہے) اور اس کے لیے خاص کوشش بھی کریں۔ (جیسا کہ مجاہدہ کے لفظ سے واضح ہے) تو ان کی اطاعت نہیں کرنی چاہیئے۔ کیونکہ «لا طَاعَةَ لأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى» (مسند أحمد5/66 والصحيحة للألباني، نمبر 179) ”اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں“۔ اس آیت کی شان نزول میں حضرت سعد بن ابی وقاص (رضي الله عنه) ، کا واقعہ آتا ہے کہ ان کے مسلمان ہونے پر ان کی والدہ نے کہا کہ میں نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی، یہاں تک کہ مجھے موت آجائے یا پھر تو محمد (صلى الله عليه وسلم) کی نبوت کا انکار کر دے، بالآخر یہ اپنی والدہ کو زبردستی منہ کھول کر کھلاتے، جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (صحيح مسلم، ترمذي، تفسير سورة العنكبوت)