سورہ Al-'Ankabut — آیت 67

مکڑی · 29:67 · 67/69

أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا ءَامِنًا وَيُتَخَطَّفُ ٱلنَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۚ أَفَبِٱلْبَـٰطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ ٱللَّهِ يَكْفُرُونَ

Awa lam yaraw anna jaAAalna haramanaminan wayutakhattafu annasu min hawlihimafabilbatili yu'minoona wabiniAAmati Allahiyakfuroon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ اس کے گرد ونواح سے اُچک لئے جاتے ہیں۔ کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں

محمد جوناگڑھی

کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو با امن بنا دیا ہے حاﻻنکہ ان کے اردگرد سے لوگ اچک لیے جاتے ہیں، کیا یہ باطل پر تو یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر ناشکری کرتے ہیں.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک پُر امن حرم بنا دیا ہے حالانکہ ان کے گرد وپیش لوگ اُچک لیے جاتے ہیں؟ کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا کفران کرتے ہیں؟

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنا دیا ہے اور لوگ اچک لیے جاتے ہیں ان کے ارد گرد سے تو کیا یہ لوگ باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کر رہے ہیں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو با امن بنا دیا ہے حاﻻنکہ ان کے اردگرد سے لوگ اچک لیے جاتے ہیں[1] ، کیا یہ باطل پر تو یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر ناشکری کرتے ہیں.[2]

حواشی

[1] اللہ تعالیٰ اس احسان کا تذکرہ فرما رہاہے جو اہل مکہ پر اس نے کیا کہ ہم نے ان کے حرم کو امن والا بنایا جس میں اس کے باشندے قتل وغارت، اسیری، لوٹ مار وغیرہ سے محفوظ ہیں، جب کہ عرب کے دوسرےعلاقے اس امن وسکون سے محروم ہیں قتل وغارت گری ان کے ہاں معمول اور آئے دن کا مشغلہ ہے۔ [2] یعنی کیا اس نعمت کا شکر یہی ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائیں، اور جھوٹے معبودوں اور بتوں کی پرستش کرتے رہیں۔ اس احسان کا اقتضا تو یہ تھا کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے اور اس کے پیغمبر (صلى الله عليه وسلم) کی تصدیق کرتے۔