سورہ Al-'Ankabut — آیت 36

مکڑی · 29:36 · 36/69

وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا فَقَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَٱرْجُوا۟ ٱلْيَوْمَ ٱلْـَٔاخِرَ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ

Wa-ila madyana akhahumshuAAayban faqala ya qawmi oAAbudoo Allahawarjoo alyawma al-akhira wala taAAthaw feeal-ardi mufsideen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور مدین کی طرف اُن کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اُنہوں نے کہا (اے قوم) خدا کی عبادت کرو اور پچھلے دن کے آنے کی اُمید رکھو اور ملک میں فساد نہ مچاؤ

محمد جوناگڑھی

اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو قیامت کے دن کی توقع رکھو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور مَدیَن کی طرف ہم نے اُن کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا۔ اُس نے کہا”اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو اور روزِ آخر کے اُمیدوار رہو اور زمین میں مفسد بن کر زیادتیاں نہ کرتے پھرو۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور مدین کی طرف بھیجا ہم نے ان کے بھائی شعیب ؑ کو تو اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو اور آخرت کے دن کی امید رکھو اور زمین میں فساد مت مچاتے پھرو

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور مدین کی طرف[1] ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو قیامت کے دن کی توقع رکھو[2] اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو.[3]

حواشی

[1] مدین حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے بیٹے کا نام تھا، بعض کے نزدیک یہ ان کے پوتے کا نام ہے، بیٹے کا نام مدیان تھا۔ ان ہی کے نام پر اس قبیلے کا نام پڑ گیا، جو ان ہی کی نسل پر مشتمل تھا۔ اسی قبیلہ مدین کی طرف حضرت شعیب (عليه السلام) کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ بعض کہتے ہیں کہ مدین شہر کا نام تھا، یہ قبیلہ یا شہر لوط (عليه السلام) کی بستی کے قریب ہی تھا۔ [2] اللہ کی عبادت کے بعد، انہیں آخرت کی یاد دہانی کرائی گئی یا تو اس لیے کہ وہ آخرت کے منکر تھے یا اس لیے کہ وہ اسے فراموش کیے ہوئے تھے اور معصیتوں میں مبتلا تھے اور جو قوم آخرت کو فراموش کر دے، وہ گناہوں میں دلیر ہوتی ہے۔ جیسے آج مسلمانوں کی اکثریت کا حال ہے۔ [3] ناپ تول میں کمی اور لوگوں کو کم دینا، یہ بیماری ان میں عام تھی اور ارتکاب معاصی میں بھی انہیں باک نہیں تھا، جس سے زمین فساد سے بھر گئی تھی۔