سورہ Al-'Ankabut — آیت 29
مکڑی · 29:29 · 29/69
أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلرِّجَالَ وَتَقْطَعُونَ ٱلسَّبِيلَ وَتَأْتُونَ فِى نَادِيكُمُ ٱلْمُنكَرَ ۖ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ ٱئْتِنَا بِعَذَابِ ٱللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
A-innakum lata'toona arrijalawataqtaAAoona assabeela wata'toona fee nadeekumualmunkara fama kana jawaba qawmihi illaan qaloo i'tina biAAathabi Allahi inkunta mina assadiqeen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
تم کیوں (لذت کے ارادے سے) لونڈوں کی طرف مائل ہوتے اور (مسافروں کی) رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو۔ تو اُن کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ
محمد جوناگڑھی
کیا تم مردوں کے پاس بدفعلی کے لیے آتے ہو اور راستے بند کرتے ہو اور اپنی عام مجلسوں میں بے حیائیوں کا کام کرتے ہو؟ اس کے جواب میں اس کی قوم نے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہا کہ بس جا اگر سچا ہے تو ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آ.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
کیا تمہارا حال یہ ہے کہ مَردوں کے پاس جاتے ہو، اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں بُرے کام کرتے ہو؟“ پھر کوئی جواب اُس کی قوم کے پاس اس کے سوا نہ تھا کہ انہوں نے کہا”لے آ اللہ کا عذاب اگر تُو سچا ہے۔“
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
کیا تم آتے ہو مردوں کے پاس (شہوت رانی کے لیے) اور (فطری) راستہ منقطع کرتے ہو اور یہ مذموم فعل تم اپنی مجلسوں کے اندر کرتے ہو تو اس کی قوم کا کوئی جواب اس کے سوا نہیں تھا کہ انہوں نے کہا : تم لے آؤ ہم پر اللہ کا عذاب اگر تم سچے ہو
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
کیا تم مردوں کے پاس بدفعلی کے لیے آتے ہو[1] اور راستے بند کرتے ہو[2] اور اپنی عام مجلسوں میں بے حیائیوں کا کام کرتے ہو[3]؟ اس کے جواب میں اس کی قوم نے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہا کہ بس[4] جا اگر سچا ہے تو ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آ.
حواشی
[1] یعنی تمہاری شہوت پرستی اس انتہا کو پہنچ گئی ہے کہ اس کے لیے طبعی طریقے تمہارے لیے ناکافی ہوگئے ہیں اور غیر طبعی طریقہ تم نے اختیار کر لیا ہے۔ جنسی شہوت کی تسکین کے لیے طبعی طریقہ اللہ تعالیٰ نے بیویوں سے مباشرت کی صورت میں رکھا ہے۔ اسے چھوڑ کر اس کام کے لیے مردوں کی دبر استعمال کرنا غیر فطری اور غیر طبعی طریقہ ہے۔ [2] اس کے ایک معنی تو یہ کیے گئے ہیں کہ آنے جانے والے مسافروں، نوواردوں اور گزرنے والوں کو زبردستی پکڑ پکڑ کر تم ان سے بےحیائی کا کام کرتے ہو، جس سے لوگوں کے لیے راستوں سے گزرنا مشکل ہوگیا اور لوگ گھروں میں بیٹھے رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ دوسرے معنی ہیں کہ تم آنے جانے والوں کو لوٹ لیتے اور قتل کر دیتے ہو یا ازراہ شرارت انہیں کنکریاں مارتے ہو۔ تیسرے معنی کیے گئے ہیں کہ سرراہ ہی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جس سے وہاں سے گزرتے ہوئے لوگ شرم محسوس کرتے ہیں۔ ان تمام صورتوں سے راستے بند ہو جاتے ہیں۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ کسی ایک خاص سبب کی تعیین تو مشکل ہے تاہم وہ ایسا کام ضرور کرتے تھے ، جس سے عملاً راستہ بند ہو جاتا تھا۔ قطع طریق کے ایک معنی قطع نسل کے بھی کیے گئے ہیں۔ یعنی عورتوں کی شرم گاہوں کو استعمال کرنے کے بجائے مردوں کی دبر استعمال کرکے تم اپنی نسل بھی منقطع کرنے میں لگے ہوئےہو۔ (فتح القدیر) [3] یہ بےحیائی کیا تھی؟ اس میں بھی مختلف اقوال ہیں، مثلاً لوگوں کو کنکریاں مارنا ، اجنبی مسافر کا استہزا واستخفاف ، مجلسوں میں پاد مارنا، ایک دوسرے کے سامنے اغلام بازی، شطرنج وغیرہ قسم کی قمار بازی، رنگے ہوئے کپڑے پہننا، وغیرہ۔ امام شوکانی فرماتے ہیں (کوئی بعید نہیں کہ وہ یہ تمام ہی منکرات کرتے رہے ہوں)۔ [4] حضرت لوط (عليه السلام) نے جب انہیں ان منکرات سے منع کیا تو اس کے جواب میں کہا . . .۔