سورہ Al-'Ankabut — آیت 18

مکڑی · 29:18 · 18/69

وَإِن تُكَذِّبُوا۟ فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِّن قَبْلِكُمْ ۖ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَـٰغُ ٱلْمُبِينُ

Wa-in tukaththiboo faqad kaththabaomamun min qablikum wama AAala arrasooliilla albalaghu almubeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور اگر تم (میری) تکذیب کرو تو تم سے پہلے بھی اُمتیں (اپنے پیغمبروں کی) تکذیب کرچکی ہیں۔ اور پیغمبر کے ذمے کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں

محمد جوناگڑھی

اور اگر تم جھٹلاؤ تو تم سے پہلے کی امتوں نے بھی جھٹلایا ہے، رسول کے ذمہ تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہی ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور اگر تم جھُٹلا تے ہو تو تم سے پہلے بہت سی قومیں جھُٹلا چکی ہیں، اور رسُولؐ پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا  کوئی ذمّہ داری نہیں ہے۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور اگر تم جھٹلا رہے ہو تو (یاد رکھو کہ) تم سے پہلے بہت سی قومیں جھٹلا چکی ہیں اور رسول ﷺ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے سوائے صاف صاف پہنچا دینے کے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور اگر تم جھٹلاؤ تو تم سے پہلے کی امتوں نے بھی جھٹلایا ہے[1] ، رسول کے ذمہ تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہی ہے.[2]

حواشی

[1] یہ حضرت ابراہیم (عليه السلام) کا قول بھی ہوسکتا ہے، جو انہوں نے اپنی قوم سے کہا۔ یا اللہ تعالیٰ کا قول ہے جس میں اہل مکہ سے خطاب ہے اور اس میں نبی (صلى الله عليه وسلم) کو تسلی دی جارہی ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں، تو اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پیغمبروں کے ساتھ یہی ہوتا آیا ہے۔ پہلی امتیں بھی رسولوں کو جھٹلاتی اور اس کا نتیجہ بھی وہ ہلاکت وتباہی کی صورت میں بھگتتی رہی ہیں۔ [2] اس لیے آپ بھی تبلیغ کا کام کرتے رہیے۔ اس سے کوئی راہ یاب ہوتا ہے یا نہیں؟ اس کے ذمے دار آپ نہیں ہیں، نہ آپ سے اس کی بابت پوچھا ہی جائے گا، کیونکہ ہدایت دینا نہ دینا یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے، جو اپنی سنت کے مطابق، جس میں ہدایت کی طلب صادق دیکھتا ہے، اس کو ہدایت سے نواز دیتا ہے۔ دوسروں کو ضلالت کی تاریکیوں میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔