سورہ Al-'Ankabut — آیت 13
مکڑی · 29:13 · 13/69
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَّعَ أَثْقَالِهِمْ ۖ وَلَيُسْـَٔلُنَّ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ عَمَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ
Walayahmilunna athqalahumwaathqalan maAAa athqalihim walayus-alunna yawmaalqiyamati AAamma kanoo yaftaroon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور یہ اپنے بوجھ بھی اُٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کے) بوجھ بھی۔ اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن اُن کی اُن سے ضرور پرسش ہوگی
محمد جوناگڑھی
البتہ یہ اپنے بوجھ ڈھولیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ ہی اور بوجھ بھی۔ اور جو کچھ افترا پردازیاں کر رہے ہیں ان سب کی بابت ان سے باز پرس کی جائے گی.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
ہاں ضرور وہ اپنے بوجھ بھی اُٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے بہت سے بوجھ بھی۔ اور قیامت کے روز یقیناً ان سے اِن افترا پردازیوں کی باز پرس ہوگی جو وہ کرتے رہے ہیں۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
البتہ وہ لازماً اٹھائیں گے اپنے بوجھ بھی اور ان کے ساتھ کچھ دوسرے بوجھ بھی اور ان سے لازماً باز پرس ہوگی قیامت کے دن اس کے بارے میں جو جھوٹ یہ گھڑ رہے ہیں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
البتہ یہ اپنے بوجھ ڈھولیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ ہی اور بوجھ بھی[1] ۔ اور جو کچھ افترا پردازیاں کر رہے ہیں ان سب کی بابت ان سے باز پرس کی جائے گی.
حواشی
[1] یعنی یہ ائمہ کفر اور داعیان ضلال اپنا ہی بوجھ نہیں اٹھائیں گے، بلکہ ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی ان پر ہوگا جو ان کی سعی وکاوش سے گمراہ ہوئے تھے۔ یہ مضمون سورۃ النحل آیت 25 میں بھی گزر چکا ہے۔ حدیث میں ہے، جو ہدایت کی طرف بلاتا ہے ، اس کے لیے اپنی نیکیوں کے اجر کے ساتھ ان لوگوں کی نیکیوں کا اجر بھی ہوگا جو اس کی وجہ سے قیامت تک ہدایت کی پیروی کریں گے، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو۔ اور جو گمراہی کا داعی ہوگا، اس کے لیے اپنے گناہوں کے علاوہ ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی ہوگا جو قیامت تک اس کی وجہ سے گمراہی کا راستہ اختیار کرنے والے ہوں گے، بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کمی ہو۔ (أبو داود، كتاب السنة، باب لزوم السنة ابن ماجه، المقدمة، باب من سن سنة حسنة أو سيئة) اسی اصول سے قیامت تک ظلم سے قتل کیے جانے والوں کے خون کا گناہ آدم (عليه السلام) کے پہلے بیٹے (قابیل) پر ہوگا۔ اس لیے کہ سب سے پہلے اسی نے ناحق قتل کیا تھا (مسند أحمد 1/383 وقد أخرجه الجماعة سوى أبي داود من طرق )