سورہ Al-'Ankabut — آیت 10

مکڑی · 29:10 · 10/69

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ فَإِذَآ أُوذِىَ فِى ٱللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ ٱلنَّاسِ كَعَذَابِ ٱللَّهِ وَلَئِن جَآءَ نَصْرٌ مِّن رَّبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ ۚ أَوَلَيْسَ ٱللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِى صُدُورِ ٱلْعَـٰلَمِينَ

Wamina annasi man yaqoolu amannabillahi fa-itha oothiya fee AllahijaAAala fitnata annasi kaAAathabi Allahiwala-in jaa nasrun min rabbika layaqoolunna innakunna maAAakum awa laysa Allahu bi-aAAlama bimafee sudoori alAAalameen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر ایمان لائے جب اُن کو خدا (کے رستے) میں کوئی ایذا پہنچتی ہے تو لوگوں کی ایذا کو (یوں) سمجھتے ہیں جیسے خدا کا عذاب۔ اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ تھے۔ کیا جو اہل عالم کے سینوں میں ہے خدا اس سے واقف نہیں؟

محمد جوناگڑھی

اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو زبانی کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے ہیں لیکن جب اللہ کی راه میں کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو لوگوں کی ایذا دہی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح بنا لیتے ہیں، ہاں اگر اللہ کی مدد آجائے تو پکار اٹھتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھی ہی ہیں کیا دنیا جہان کے سینوں میں جو کچھ ہے اس سے اللہ تعالیٰ دانا نہیں ہے؟

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو کہتا ہے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر۔ مگر جب وہ اللہ کے معاملہ میں ستایا گیا تو اس نے لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا۔ اب اگر تیرے ربّ کی طرف سے فتح و نصرت آگئی تو یہی شخص کہے گا کہ”ہم تو تمہارے ساتھ تھے“ کیا دنیا والوں کےدلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم نہیں ہے؟

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر مگر جب انہیں اللہ کی راہ میں ایذا پہنچائی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی ایذا رسانی کو اللہ کے عذاب کی مانند سمجھ لیتے ہیں اور (اے نبی ﷺ !) اگر آپ کے رب کی طرف سے مدد آجائے یہ ضرور کہیں گے کہ ہم آپ لوگوں کے ساتھ ہی تو تھے تو کیا اللہ بخوبی واقف نہیں ہے اس سے جو جہان والوں کے سینوں میں مضمر ہے