سورہ Al-Anfal — آیت 7

مال غنیمت · 8:7 · 7/75

وَإِذْ يَعِدُكُمُ ٱللَّهُ إِحْدَى ٱلطَّآئِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ ٱلشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُحِقَّ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَـٰتِهِۦ وَيَقْطَعَ دَابِرَ ٱلْكَـٰفِرِينَ

Wa-ith yaAAidukumu Allahu ihdaatta-ifatayni annaha lakum watawaddoonaanna ghayra thati ashshawkati takoonu lakumwayureedu Allahu an yuhiqqa alhaqqa bikalimatihiwayaqtaAAa dabira alkafireen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے

محمد جوناگڑھی

اور تم لوگ اس وقت کو یاد کرو! جب کہ اللہ تم سے ان دو جماعتوں میں سے ایک کا وعده کرتا تھا کہ وه تمہارے ہاتھ آجائے گی اور تم اس تمنا میں تھے کہ غیر مسلح جماعت تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا ﺛابت کردے اور ان کافروں کی جڑ کاٹ دے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مِل جائے گا۔ تم چاہتے تھے کہ کمزور گروہ تمہیں ملے۔ مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور یاد کرو جبکہ اللہ وعدہ کر رہا تھا تم لوگوں سے کہ ان دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جائے گا اور (اے مسلمانو !) تم یہ چاہتے تھے کہ جو بغیر کانٹے کے ہے وہ تمہارے ہاتھ آئے اور اللہ چاہتا تھا کہ اپنے فیصلے کے ذریعے سے حق کا حق ہونا ثابت کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔