سورہ Al-Anbya — آیت 84

پیغمبر · 21:84 · 84/112

فَٱسْتَجَبْنَا لَهُۥ فَكَشَفْنَا مَا بِهِۦ مِن ضُرٍّ ۖ وَءَاتَيْنَـٰهُ أَهْلَهُۥ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَـٰبِدِينَ

Fastajabna lahu fakashafnama bihi min durrin waataynahu ahlahuwamithlahum maAAahum rahmatan min AAindina wathikralilAAabideen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے بھی عطا فرمائے اور اپنی مہربانی کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے (یہ) نصیحت ہے

محمد جوناگڑھی

تو ہم نے اس کی سن لی اور جو دکھ انہیں تھا اسے دور کر دیا اور اس کو اہل وعیال عطا فرمائے بلکہ ان کے ساتھ ویسے ہی اور اپنی خاص مہربانی سے تاکہ سچے بندوں کے لئے سبب نصیحت ہو.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور جو تکلیف اُسے تھی اس کو دُور کر دیا، اور صرف اس کے اہل و عیال ہی اس کو نہیں دیے بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیے، اپنی خاص رحمت کے طور پر، اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

تو ہم نے اس ؑ کی دعا قبول کی اور اس کو جو تکلیف تھی اسے دور کردیا اور ہم نے اسے عطا کیے اس کے گھر والے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی اپنی طرف سے خاص رحمت کے طور پر اور تاکہ نصیحت (یاد دہانی) ہو عبادت کرنے والوں کے لیے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

تو ہم نے اس کی سن لی اور جو دکھ انہیں تھا اسے دور کر دیا اور اس کو اہل وعیال عطا فرمائے بلکہ ان کے ساتھ ویسے ہی اور اپنی خاص مہربانی سے[1] تاکہ سچے بندوں کے لئے سبب نصیحت ہو.

حواشی

[1] قرآن مجید میں حضرت ایوب (عليه السلام) کو صابر کہا گیا ہے، (سورۂ ص:44) اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں سخت آزمائشوں میں ڈالا گیا جن میں انہوں نے صبر شکر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ یہ آزمائش اور تکلیفیں کیا تھیں، اس کی مستند تفصیل تو نہیں ملتی، تاہم قرآن کے انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے انہیں مال و دولت دنیا اور اولاد وغیرہ سے نوازا ہوا تھا، بطور آزمائش اللہ تعالٰی نے ان سے یہ سب نعمتیں چھین لیں، حتٰی کہ جسمانی صحت سے بھی محروم اور بیماریوں میں گھر کر رہ گئے۔ بالآخر کہا جاتا ہے کہ 8ا سال کی آزمائشوں کے بعد بارگاہ الٰہی میں دعا کی، اللہ نے دعا قبول فرمائی اور صحت کے ساتھ مال و اولاد، پہلے سے دوگنا عطا فرمائے۔ (اس کی کچھ تفصیل صحیح ابن حبان رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ایک روایت میں ملتی ہےج4، ص244، ومجمع الزوائد8/208)، جس کا اظہار حضرت ایوب (عليه السلام) نے کبھی نہیں کیا۔ البتہ دعا صبر کے منافی نہیں ہے۔ اسی لئے اللہ تعالٰی نے اس کے لئے ' ہم نے قبول کر لی 'کے الفاظ استعمال فرمائے۔