سورہ Al-An'am — آیت 70

مویشی · 6:70 · 70/165

وَذَرِ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ وَذَكِّرْ بِهِۦٓ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِىٌّ وَلَا شَفِيعٌ وَإِن تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا يُؤْخَذْ مِنْهَآ ۗ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أُبْسِلُوا۟ بِمَا كَسَبُوا۟ ۖ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ

Wathari allatheena ittakhathoodeenahum laAAiban walahwan wagharrat-humu alhayatuaddunya wathakkir bihi an tubsala nafsunbima kasabat laysa laha min dooni Allahiwaliyyun wala shafeeAAun wa-in taAAdil kulla AAadlin layu'khath minha ola-ika allatheenaobsiloo bima kasaboo lahum sharabun min hameeminwaAAathabun aleemun bima kanoo yakfuroon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

اور جن لوگوں نے اپنےدین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے (اس روز) خدا کےسوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ اور اگر وہ ہر چیز (جو روئے زمین پر ہے بطور) معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب ہے اس لئے کہ کفر کرتے تھے

محمد جوناگڑھی

اور ایسے لوگوں سے بالکل کناره کش رہیں جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے اور دنیوی زندگی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے اور اس قرآن کے ذریعہ سے نصیحت بھی کرتے رہیں تاکہ کوئی شخص اپنے کردار کے سبب (اس طرح) نہ پھنس جائے کہ کوئی غیر اللہ اس کا نہ مددگار ہو اور نہ سفارشی اور یہ کیفیت ہو کہ اگر دنیا بھر کا معاوضہ بھی دے ڈالے تب بھی اس سے نہ لیا جائے۔ ایسے ہی ہیں کہ اپنے کردار کے سبب پھنس گئے، ان کے لئے نہایت تیز گرم پانی پینے کے لئے ہوگا اور دردناک سزا ہوگی اپنے کفر کے سبب۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

چھوڑو اُن لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا کیے ہوئے ہے ہاں مگر یہ قرآن سنا کر نصیحت اور تنبیہ کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص اپنے کیے کرتوتوں کے وبال میں گرفتار نہ ہو جائے، اور گرفتار بھی اِس حال میں ہو کہ اللہ سے بچانے والا کوئی حامی و مدد گار اور کوئی سفارشی اس کے لیے نہ ہو، اور گر وہ ہر ممکن چیز فدیہ میں دے کر چھوٹنا چاہے تو وہ بھی اس سے قبول نہ کی جائے، کیونکہ ایسے لوگ تو خود اپنی کمائی کے نتیجہ میں پکڑے جائیں گے، ان کو تو اپنے انکار حق کے معاوضہ میں کھولتا ہوا پانی پینے کو اور درد ناک عذاب بھگتنے کو ملے گا

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور چھوڑدو ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا ہے اور ان کو دھوکے میں مبتلا کردیا ہے دنیا کی زندگی نے اور آپ تذکیر کیجیے اسی (قرآن) کے ذریعے سے مبادا کوئی جان اپنے کرتوتوں کے سبب گرفتار ہوجائے پھر اس کے لیے نہیں ہوگا اللہ کے مقابلے میں کوئی کارساز اور نہ کوئی سفارشی اور اگر وہ فدیہ دینا چاہے کل کا کل فدیہ تو بھی اس سے قبول نہیں کیا جائے گا یہی لوگ ہیں جو گرفتار ہوچکے ہیں اپنے کرتوتوں کی پاداش میں۔ ان کے لیے کھولتا ہوا پانی پینے کو اور درد ناک عذاب ہوگا ان کے کفر کی پاداش میں