سورہ Al-An'am — آیت 69
مویشی · 6:69 · 69/165
وَمَا عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍ وَلَـٰكِن ذِكْرَىٰ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
Wama AAala allatheenayattaqoona min hisabihim min shay-in walakinthikra laAAallahum yattaqoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے حساب کی کچھ بھی جواب دہی نہیں ہاں نصیحت تاکہ وہ بھی پرہیزگار ہوں
محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ پرہیزگار ہیں ان پر ان کی باز پرس کا کوئی اﺛر نہ پہنچے گا اور لیکن ان کے ذمہ نصیحت کردینا ہے شاید وه تقویٰ اختیار کریں۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اُن کے حساب میں سے کسی چیز کی ذمّہ داری پرہیز گار لوگوں پر نہیں ہے، البتّہ نصیحت کرنا اُن کا فرض ہے شاید کہ وہ غلط روی سے بچ جائیں۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور یقیناً جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کرتے ہیں ان پر ان لوگوں کے حساب کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے لیکن یہ یاد دہانی ہے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور جو لوگ پرہیزگار ہیں ان پر ان کی باز پرس کا کوئی اﺛر نہ پہنچے گا[1] اور لیکن ان کے ذمہ نصیحت کردینا ہے شاید وه تقویٰ اختیار کریں۔[2]
حواشی
[1] ”مِنْ حِسَابِهِمْ“ کا تعلق آیات الٰہی کا استہزا کرنے والوں سے ہے۔ یعنی جو لوگ ایسی مجالس سے اجتناب کریں گے، تو استہزا بآیات اللہ کا جو گناہ، استہزا کرنے والوں کو ملے گا، وہ اس گناہ سے محفوظ رہیں گے۔ [2] یعنی اجتناب وعلیحدگی کے باوجود وعظ ونصیحت اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ حتی المقدور ادا کرتے رہیں۔ شاید وہ بھی اپنی اس حرکت سے باز آجائیں۔