سورہ Al-An'am — آیت 2

مویشی · 6:2 · 2/165

هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن طِينٍ ثُمَّ قَضَىٰٓ أَجَلًا ۖ وَأَجَلٌ مُّسَمًّى عِندَهُۥ ۖ ثُمَّ أَنتُمْ تَمْتَرُونَ

Huwa allathee khalaqakum min teeninthumma qada ajalan waajalun musamman AAindahu thumma antumtamtaroon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر (مرنے کا) ایک وقت مقرر کر دیا اور ایک مدت اس کے ہاں اور مقرر ہے پھر بھی تم (اے کافرو خدا کے بارے میں) شک کرتے ہو

محمد جوناگڑھی

وه ایسا ہے جس نے تم کو مٹی سے بنایا پھر ایک وقت معین کیا اور (دوسرا) معین وقت خاص اللہ ہی کے نزدیک ہے پھر بھی تم شک رکھتے ہو۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر تمہارے لیے زندگی کی ایک مدّت مقرر کردی، اور ایک دُوسری مدّت اور بھی جو اس کے ہاں طے شدہ ہے۔ مگر تم لوگ ہو کہ شک میں پڑے ہوئے ہو

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

وہی ہے جس نے تمہیں بنایا ہے گارے سے پھر ایک وقت مقرر کردیا ہے اور ایک اور معین وقت اس کے پاس موجود ہے پھر بھی تم شک کرتے ہو !

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

وه ایسا ہے جس نے تم کو مٹی سے بنایا[1] پھر ایک وقت معین کیا[2] اور (دوسرا) معین وقت خاص اللہ ہی کے نزدیک ہے[3] پھر بھی تم شک رکھتے ہو۔[4]

حواشی

[1] یعنی تمہارے باپ آدم (عليه السلام) کو، جو تمہاری اصل ہیں اور جن سے تم سب نکلے ہو۔ اس کا ایک دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم جو خوارک اور غذائیں کھاتے ہو، سب زمین سے پیدا ہوتی ہیں اور انہی غذاؤں سے نطفہ بنتا ہے جو رحم مادر میں جاکر تخلیق انسانی کا باعث بنتا ہے۔ اس لحاظ سے گویا تمہاری پیدائش مٹی سے ہوئی۔ [2] یعنی موت کا وقت۔ [3] یعنی آخرت کا وقت، اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ گویا پہلی اجل سے مراد پیدائش سے لے کر موت تک انسان کی عمر ہے اور دوسری اجل مسمیٰ ہے۔ مراد انسان کی موت سے لے کر وقوع قیامت تک دنیا کی کل عمر ہے، جس کے بعد وہ زوال وفنا سے دوچار ہوجائے گی اور ایک دوسری دنیا یعنی آخرت کی زندگی کاآغاز ہوجائے گا۔ [4] یعنی قیامت کے وقوع میں جیسا کہ کفارومشرکین کہا کرتے تھے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل جائیں گے تو کس طرح ہمیں دوبارہ زندہ کیا جاسکے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا دوبارہ بھی وہی اللہ تمہیں زندہ کرے گا“ (سورۃ یٰسین)