سورہ Al-An'am — آیت 1
مویشی · 6:1 · 1/165
ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَجَعَلَ ٱلظُّلُمَـٰتِ وَٱلنُّورَ ۖ ثُمَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ
Alhamdu lillahi allatheekhalaqa assamawati wal-ardawajaAAala aththulumati wannoorathumma allatheena kafaroo birabbihim yaAAdiloon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرا اور روشنی بنائی پھر بھی کافر (اور چیزوں کو) خدا کے برابر ٹھیراتے ہیں
محمد جوناگڑھی
تمام تعریفیں اللہ ہی کے ﻻئق ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں اور نور کو بنایا پھر بھی کافر لوگ (غیر اللہ کو) اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے زمین اور آسمان بنائے، روشنی اور تاریکیاں پیدا کیں۔ پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے دعوتِ حق کو ماننے سے انکار کردیا ہے دُوسروں کو اپنے ربّ کا ہمسر ٹھیرا رہے ہیں
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
کل تعریف اور تمام شکر اس اللہ کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی اور بنایا اندھیروں اور اجالے کو پھر بھی وہ لوگ جو اپنے رب کا کفر کرتے ہیں اس کے برابر کیے دیتے ہیں (جھوٹے معبودوں کو)
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
تمام تعریفیں اللہ ہی کے ﻻئق ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں اور نور کو بنایا[1] پھر بھی کافر لوگ (غیر اللہ کو) اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں۔[2]
حواشی
[1] ظلمات سے رات کی تاریکی اور نور سے دن کی روشنی یا کفر کی تاریکی اور ایمان کی روشنی مراد ہے۔ نور کے مقابلے میں ظلمات کو جمع ذکر کیا گیا ہے، اس لئے کہ ظلمات کے اسباب بھی بہت سے ہیں اور اس کی انواع بھی متعدد ہیں اور نور کا ذکر بطور جنس ہے جو اپنی تمام انواع کو شامل ہے۔ (فتح القدیر) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چونکہ ہدایت اور ایمان کا راستہ ایک ہی ہے، چار یا پانچ یا متعدد نہیں ہیں، اس لئے نور کو واحد ذکر کیا گیا ہے۔ [2] یعنی اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔