سورہ Al-An'am — آیت 152

مویشی · 6:152 · 152/165

وَلَا تَقْرَبُوا۟ مَالَ ٱلْيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُۥ ۖ وَأَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ وَٱلْمِيزَانَ بِٱلْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَإِذَا قُلْتُمْ فَٱعْدِلُوا۟ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۖ وَبِعَهْدِ ٱللَّهِ أَوْفُوا۟ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

Wala taqraboo mala alyateemiilla billatee hiya ahsanu hattayablugha ashuddahu waawfoo alkayla walmeezana bilqistila nukallifu nafsan illa wusAAaha wa-ithaqultum faAAdiloo walaw kana tha qurbawabiAAahdi Allahi awfoo thalikum wassakumbihi laAAallakum tathakkaroon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق اور جب (کسی کی نسبت) کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو گو وہ (تمہارا) رشتہ دار ہی ہو اور خدا کے عہد کو پورا کرو ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم نصحیت کرو

محمد جوناگڑھی

اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے یہاں تک کہ وه اپنے سن رشد کو پہنچ جائے اور ناپ تول پوری پوری کرو، انصاف کے ساتھ، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتے۔ اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو، گو وه شخص قرابت دار ہی ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا اس کو پورا کرو، ان کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

() اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاوٴ مگر ایسے طریقہ سے جو بہترین ہو یہاں تک کہ وہ اپنے سنِ رُشد کو پہنچ جائے،(۷) اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم ہر شخص پر ذمہ داری کا اُتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے،(۸) اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو، (۹) اور اللہ کے عہد کو پُورا کرو۔ان باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور یتیم کے مال کے قریب مت پھٹکو مگر بہترین طریقے سے (اس کے مال کی حفاظت کرو) یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور پورا کرو ناپ اور تول کو عدل کے ساتھ۔ ہم نہیں ذمہ دار ٹھہرائیں گے کسی بھی جان کو مگر اس کی وسعت کے مطابق اور جب بھی بات کرو تو عدل (کی بات) کرو خواہ قرابت دار ہی (کا معاملہ) ہو اور اللہ کے عہد کو پورا کرو یہ ہیں (وہ چیزیں) جن کا اللہ تمہیں حکم کر رہا ہے تاکہ تم نصیحت اخذ کرو