سورہ Al-An'am — آیت 143

مویشی · 6:143 · 143/165

ثَمَـٰنِيَةَ أَزْوَٰجٍ ۖ مِّنَ ٱلضَّأْنِ ٱثْنَيْنِ وَمِنَ ٱلْمَعْزِ ٱثْنَيْنِ ۗ قُلْ ءَآلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلْأُنثَيَيْنِ أَمَّا ٱشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۖ نَبِّـُٔونِى بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ

Thamaniyata azwajin mina adda'niithnayni wamina almaAAzi ithnayni qul aththakarayniharrama ami alonthayayni amma ishtamalat AAalayhiarhamu alonthayayni nabbi-oonee biAAilmin in kuntum sadiqeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

(یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو) بھیڑوں میں سے اور دو (دو) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور اور ایک ایک مادہ) (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ

محمد جوناگڑھی

(پیدا کیے) آٹھ نر و ماده یعنی بھیڑ میں دو قسم اور بکری میں دو قسم آپ کہیے کہ کیا اللہ نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں ماده کو؟ یا اس کو جس کو دونوں ماده پیٹ میں لئے ہوئے ہوں؟ تم مجھ کو کسی دلیل سے تو بتاؤ اگر سچے ہو۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

یہ آٹھ نر و مادہ ہیں، دو بھیڑ کی قسم سے اور دو بکری کی قسم سے، اے محمد ؐ ! ان سے پُوچھو کہ اللہ نے اُن کے نر حرام کیے ہیں یا مادہ، یا وہ بچّے جو بھیڑوں اور بکریوں کے پیٹ میں ہوں؟ ٹھیک ٹھیک علم کے ساتھ مجھے بتا ؤ اگر تم سچے ہو۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

یہ آٹھ قسم کے چوپائے ہیں (جو تمہارے ہاں عام طور پر پائے جاتے ہیں) بھیڑ میں سے دو (نر اور مادہ) اور بکری میں سے دو (نر اور مادہ) (اے نبی ﷺ ان سے پوچھئے کہ اللہ نے ان دونوں مذکروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مؤنثوں کو ؟ یا جو کچھ ان دونوں مؤنثوں کے رحموں میں ہے (اسے حرام کیا ہے) ؟ مجھے بتاؤ کسی بھی سند کے ساتھ اگر تم سچے ہو