سورہ Al-An'am — آیت 142
مویشی · 6:142 · 142/165
وَمِنَ ٱلْأَنْعَـٰمِ حَمُولَةً وَفَرْشًا ۚ كُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَـٰنِ ۚ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
Wamina al-anAAami hamoolatanwafarshan kuloo mimma razaqakumu Allahu walatattabiAAoo khutuwati ashshaytaniinnahu lakum AAaduwwun mubeen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور چارپایوں میں بوجھ اٹھانے والے (یعنی بڑے بڑے) بھی پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے (یعنی چھوٹے چھوٹے) بھی (پس) خدا کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا صریح دشمن ہے
محمد جوناگڑھی
اور مواشی میں اونچے قد کے اور چھوٹے قد کے (پیدا کیے)، جو کچھ اللہ نے تم کو دیا ہے کھاؤ اور شیطان کے قدم بقدم مت چلو، بلاشک وه تمہارا صریح دشمن ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
پھر وہی ہے جس نے مویشیوں میں سے وہ جانور بھی پیدا کیے جن سے سواری و بار برداری کا کام لیا جاتا ہے اور وہ بھی جو کھانے اور بچھانے کے کام آتے ہیں۔ کھاوٴ اُن چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کُھلا دشمن ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور چوپایوں میں سے (اس نے پیدا کیے ہیں) کچھ بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین سے لگے ہوئے کھاؤ اس میں سے جو اللہ نے تمہیں رزق دیا ہے اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور مواشی میں اونچے قد کے اور چھوٹے قد کے[1] (پیدا کیے)، جو کچھ اللہ نے تم کو دیا ہے کھاؤ[2] اور شیطان کے قدم بقدم مت چلو[3]، بلاشک وه تمہارا صریح دشمن ہے۔
حواشی
[1] حُمُولَةً (بوجھ اٹھانے والے) سے مراد، اونٹ، بیل، گدھا، خچر وغیرہ ہیں، جو باربرداری کے کام میں آتے ہیں اورفَرْشًا سے مراد زمین سے لگے ہوئے جانور۔ جیسے بکری وغیرہ جس کا تم دودھ پیتے یا گوشت کھاتے ہو۔ [2] یعنی پھلوں، کھیتوں اور چوپایوں سے۔ ان سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور ان کو تمہارے لئے خوراک بنایا ہے۔ [3] جس طرح مشرکین اس کے پیچھے لگ گئے اور حلال جانوروں کو بھی اپنے اوپر حرام کرلیا گویا اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام یا حرام کو حلال کرلینا، یہ شیطان کی پیروی ہے۔